فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 67 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 67

دسواں اعتراض احمد اور ابوداؤد نے ابوہریرہ سے روایت کیا۔نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم کیا اس کو یہ کہ نکل کرپکار دے لَاصَلوٰةَ اِلَّابِقِرَا ئَ ةِ فَاتِـحَةِ الْکِتَابِ فَـمَا زَادَ۔{ FR 4972 }؂ یہاں زیادت کا حکم ہے پس صرف فاتحہ پڑھنے والوں پر الزام ہے۔جواب ۱۔ابوداؤد کے طریق میں جعفربن میمون ہے۔نسائی نے کہا لَیْسَ بِثِقَةٍ۔{ FR 4973 }؂ ا حمدنے کہا لَیْسَ بِقَوِیٍّ { FR 4974 }؂ ابن عدی نے کہا یُکْتَبُ حَدِیْثُہٗ فِی الضُّعَفَآءِ { FR 4975 }؂ اور عبادہ کی شاہد حدیث جو مسلم اور ابوداؤد اور ابن حباّن میں ہے۔بخاری نے جزء القراء ة میں اس کو معلول کہا ہے۔جواب ۲۔مانا کہ فَصَاعِدًا والی حدیث صحیح ہے مگر ہم کہتے ہیں کہ یہ دفع تو ہم کے واسطے ہے کوئی سمجھ نہ لے کہ حکم قرا ء ت فاتحہ ہی پر محصور ہے۔امام بخاری نے جزء القراءت میں کہا ہے قولہ فَصَاعِدًا نَظِیْرُ قَوْلِہٖ تُقْطَعُ الْیَدُ فِیْ رُبْعِ دِیْنَارٍ فَصَاعِدًا۔{ FR 4976 }؂ { FN 4972 }؂ سورۂ فاتحہ کی قراءت کے بغیر نماز نہیں اور جو (اس سے) زیادہ ہے (اس کے بغیر بھی نہیں۔) (سنن أبی داود، کتاب الصلاة، أبواب تفریع استفتاح الصلاة، بَابُ مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ) { FN 4973 }؂ وہ ثقہ نہیں۔{ FN 4974 }؂ وہ (روایت میں) مضبوط نہیں۔{ FN 4975 }؂ اس کی روایات ضعیف راویان میں درج کی جاتی ہیں۔{ FN 4976 }؂ (سورۂ فاتحہ سے) کچھ زائد (پڑھنے کے حکم) کی طرح یہ قول بھی ہے کہ چوتھائی دینار یا اس سے کچھ زائد (چُرانے) پر (بھی) ہاتھ کاٹا جائے۔(نيل الأوطار، کتاب اللباس، أبواب صفة الصلاة، بَابُ وُجُوبِ قِرَاءَةِ الْفَاتِحَةِ)