فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 63 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 63

خلف الامام میں خلط امام پر لازم آتا ہے۔جواب۔بخاری نے محمد بن مقاتل سے روایت کیا اور اس نے نضر سےحدیث کی ‘ نضر نے کہا یونس نے ہمیں خبر دی ابواسحاق سے ‘اس نے ابو الاحوص سے‘ اس نے عبد اللہ سے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک قوم کو یقرؤون القرآن فیجھرون بہ خلطتّم علیّ القرآن۔ترجمہ۔پڑھتے تھے قرآن اور زور سے پڑھتے تھے۔تم نے ملا دیا مجھ پر قرآن۔پوری اور مفصل روایت میں آپ نے دیکھ لیا کہ آپ کا جھگڑا ہی فیصلہ ہے کیونکہ یہاں تصریح ہے کہ مقتدی جہر کرتے تھے اور ان کے جہر پر خَلَطْتُّمْ فرمایا نہ آہستہ پڑھنے پر۔علاوہ بریں جہر سے اگر نماز فاسد ہوتی تو اِعاَدہ کا حکم فرماتے۔اگر کراہت ہوتی منع کرتے۔مگر ہم اس جواب سے اس لئے درگزر کرتے ہیں کہ شاید ہمارے مجیب خلاف مذہب خود جواز تاخیر بیان کا مسئلہ پیش کریں گے۔حالانکہ ان کو مفر ہے۔ساتواں اعتراض انس سے روایت ہے۔أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ … قَالَ أَتَقْرَءُوْنَ فِيْ صَلَاتِكُمْ وَالْإِمَامُ يَقْرَأُ؟ فَسَكَتُوْا … قَالَ فَلَا تَفْعَلُوْا۔{ FR 4595 }؂ ا س حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مقتدی کو فعل قراءت سے منع فرمایا۔جواب پہلا۔یہ لَاتَفْعَلُوْا کی حدیث ابوداؤد اور ترمذی میں اور نسائی اور دارقطنی میں موجود ہے۔اس کو دیکھیے ایک دو سندیں ہم بھی بیان کر کےآپ کو انصاف کی راہ دکھاتے ہیں۔بخاری نے اسی انس کی حدیث کو یوں روایت کیا۔حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يُوسُفَ قَالَ أَنْبَأَنَا { FN 4595 }؂ نبی ﷺ نے فرمایا: کیا تم اپنی نماز میں قراءت کرتے ہو، جبکہ امام (بھی) قراءت کر رہا ہوتا ہے۔وہ خاموش رہے۔…… آپؐ نے فرمایا: ایسا نہ کیا کرو۔(القراءة خلف الإمام للبخاري, باب لا يجهر خلف الإمام بالقراءة, صفحه61)