فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 64 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 64

عَبْدُ اللَّهِ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِيْ قِلَا بَةَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِأَصْحَابِهٖ، فَلَمَّا قَضٰى صَلَاتَهُ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهٖ فَقَالَ: أَتَقْرَءُوْنَ فِيْ صَلَاتِكُمْ وَالْإِمَامُ يَقْرَأُ؟ فَسَكَتُوْا فَقَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ قَائِلٌ أَوْ قَائِلُونَ: إِنَّا لَنَفْعَلُ قَالَ: فَلَا تَفْعَلُوْا وَلْيَقْرَأْ أَحَدُكُمْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِيْ نَفْسِهٖ۔(القراءة خلف الإمام للبخاري, باب لا يجهر خلف الإمام بالقراءة)ترجمہ۔نبی صلعم نے اپنے صحابہ کو نماز پڑھائی۔جب پڑھ چکے ان کی طرف منہ کر کے فرمایا۔کیا تم نماز میں پڑھتے ہو جبکہ امام پڑھتا ہے پس لوگ چپ کر گئے۔تین مرتبہ فرمایا پھر لوگوں نے عرض کیا۔ہم ایسا کرتے ہیں۔فرمایا پھر مت کرو اور پڑھ لے ایک تمہارا فاتـحة الکتاب کو آہستہ۔مولوی صاحب اب اگر انصاف ہے تو ہمارے جھگڑے اس مسئلہ کے اس حدیث نے فیصل کردیئے۔دوسری روایت اسی بخاری کی عبادہ بن صامت سے سنیے۔قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْغَدَاةِ … فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ فَقَالَ إِنِّيْ لَأَرَاكُمْ تَقْرَءُوْنَ خَلْفَ إِمَامِكُمْ؟ قَالَ قُلْنَا أَجَلْ يَا رَسُوْلَ اللهِ قَالَ فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَّمْ يَقْرَأْ بِهَا۔(القراءۃ خلف الإمام للبخاري، باب لا يجهر خلف الإمام بالقراءة )ترجمہ۔نماز پڑھائی ہم کو رسول اللہ صلعم نے صبح کی نماز پس بھاری ہوئی ان پر قراءت پھر فرمایا۔میں دیکھتا ہوں تم پڑھتے ہو امام کے پیچھے کہا ہم نےہاںیارسول اللہ فرمایا‘ پھر نہ کیجیو مگر فاتـحة الکتاب تحقیق نماز نہیں ہوتی اس کی جس نے نہ پڑھا اس کو۔احمد نے اس حدیث کو بیان کیا اور بخاری نے اس کی تصحیح کی۔ابن حباّن اور حاکم اور بیہقی نے صحیح کہا۔دارقطنی نے کہا کہ اس کے سبھی رِجَال ثِقَات ہیں۔ثقہ کی زیادتی آپ کے نزدیک مقبول ہے۔اب اس زیادت کو خواہ مخواہ ماننا پڑا۔