فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 62
جواب پہلا۔اس اعتراض کو اصل مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں۔محلِّ نزاع فاتحہ کا پڑھنا ہے نہ سورة کا۔جواب ۲۔خَالَـجَنِیْھَا اور نَا زَعَنِیْھَا کے معنے جب ایک ہوئے تو جو حدیث منازعت میں جواب دیئے۔وہ جواب یہاں بھی سمجھ لیجیے۔علاوہ براں یہاں مخالجت سے بھی منع نہیں نکلتی۔اسی حدیث کے نیچے بخاری نے شعبہ سے روایت کیا کہ میں نے قتادہ راوی سے پوچھا كَأَنَّهٗ كَرِهَهٗ؟ فَقَالَ: لَوْ كَرِهَهٗ لَنَهَانَا عَنْهُ۔{ FR 4963 } ہاں دارقطنی نے حجاّج بن ارطاة سے نَهٰى عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ { FR 4964 } روایت کی ہے مگر دارقطنی نے آپ ہی کہہ دیا ہے حجا ّج کے ساتھ احتجاج نہیں کیا جاتا اور قتادة کے اور اصحاب نے حجاج کی مخالفت کی ہے۔اُن میں سے شعبہ اور سعید وغیرہ ہیں بلکہ مسلم اور بخاری کی جُزْءُ الْقِرَاءَ ةِ میں ہے۔قتادہ کہتا ہے لَوْ کَرِھَہٗ نَـہٰـی عَنْہٗ۔شعبہ کے سوال اور قتادہ کے جواب میں جو اس روایت صحیحہ میں ہے حجاج بن ارطاة کی تکذیب ہے جس نے حدیث کو بدلا ہے۔تیسرا جواب۔یہ ایک خاص واقعہ کا بیان ہے اور اس کو عموم نہیں ہوتا۔دیکھو اصول حنفیہ اور( الزاماً سمجھو) چھٹے اعتراض کا جواب اعتراض کی تفصیل یہ ہے۔حدیث میں آیا ہے۔خَلَطْتُّمْ عَلَیَّ الْقُرْآنَ۔{ FR 4965 } اور قراءت { FN 4963 } گویا کہ آنحضورصلی اللہ علیہ و سلم نے اسے ناپسند فرمایا؟ اس پر انہوں نے کہا: اگر آپؐ اسے ناپسند فرماتے تو ضرور ہمیں اس سے منع فرما دیتے۔(القراءة خلف الإمام للبخاري، بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلْإِمَامِ وَالْمَأْمُوْمِ) { FN 4964 } آپؐ نے امام کے پیچھے (قرآن) پڑھنے سے منع فرمایا۔{ FN 4965 } تم نے مجھ پر قرآن ملا جلا دیاہے۔