فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 57 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 57

بھی ضعیف ہے اور جو اُس کے تابع ہوئے وہ اس سے بھی ضعیف ہیں۔اور فتح الباری میں لکھا ہے کہ یہ حدیث جمیع حفاّظ کے نزدیک ضعیف ہے۔علاوہ بریں عام خاص کا کوئی تعارض نہیں جیسے ثابت ہو چکا۔اور ولایت کی نسبت گزارش ہے کہ امام کی ولایت تمام قراءت میں فاتحہ کے سوا مسلّم ہے اور فاتحہ مرفوع حدیث کے باعث علیحدہ ہے اور یہ کہنا کہ مقتدی اگر پڑھے گا تو اس کی دو قراءتیں ہو جائیں گی۔اوّل تو فاتحہ میں ہم قراءت سے مقتدی کی حکمی قراءت از روئے احادیث صحیحہ مان ہی نہیں سکتے۔اگر مان لیں گے تو حقیقی اور حکمی قراءت کا اجتماع لازم آوے گا۔لیکن اس اجتماع کی ممانعت شرع میں کوئی ثابت نہیں۔پس ہمارے واسطے اجتماع قراءت حقیقی اور حکمی کچھ حرج کا باعث نہ ہوگا۔اور یہ اعتراض کرنا کہ تعارض ادلّہ میں منع کو تقدیم ہے اس وقت درست تھا جب اس حدیث سے کہیں ممانعت نکلتی اور یہاں ممانعت کا ذکر ہی نہیں۔پس تعارض کہاں ہوا اور قوت سند کا دعویٰ اپنے مریدوں میں تو خوش کرنے کو کافی ہے اور عقلاء میں بجز اس کے کہ ہنسی کا موجب ہو اور کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔معترض نے اخیر میں جو یہ کہا ہے کہ اس حدیث میں اس کے جابر روای نے قراءت کو فاتحہ پر حاوی سمجھا ہے اور ماموم کو بالکل قراءت سے مستثنیٰ کیا ہے۔بجواب اس فقرہ کے گذارش ہے کہ موقوف استثنا مرفوع دلائل فاتحہ کے عموم کو اور عدم استثنا کو باطل نہیں کر سکتا۔دوسرا جواب۔قِرَاءَتُ الْاِمَامِ لَہٗ قِرَاءَةٌ کی حدیث ترک فاتحہ پر نصّ نہیں اور ادلّہ قراءت فاتحہ قراءت فاتحہ پر نصّ ہیں۔اور نصّ مفہوم سے مقدّم ہے۔اپنے اصول کو کھول کر دیکھو۔تیسراجواب۔ابن عمر ‘ جابر‘ ابوہریرہ‘ ابوسعیدکا فتویٰ آپ کی مراد کے خلاف پر موجود ہے جیسےآثار میں مذکور ہو گا انشاء اللہ۔لطیفہ۔عینی نے لَاصَلوٰةَ والی حدیث کو اس لئے مشہور نہیں ماناکہ اس کے قبول کرنے میں تابعین کا اختلاف ہے اور مشہور کی تعریف ہے مَاتَلَقَّاہُ