فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 56 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 56

نہیں۔اس کو مرفوع کہنا وہم ہے۔ابوموسیٰ کہتا ہے۔میں نے امام احمد سے ابن عباس کی حدیث کی کیفیت پوچھی تھی تو انہوں فرمایا منکر ہے۔تیسری روایت۔دارقطنی نے کہا۔یہ معلول ہے۔محمد بن عباد اس کی حدیث میں منفرد ہے اور وہ ضعیف ہے۔چوتھی روایت۔ابن عدی نے کہا ہے۔یہ معلول ہے اور اسماعیل بن عمروضعیف ہے اور اس کا کوئی تابع نہیں۔پانچویں روایت۔دارقطنی نے کہا ہے معلول ہے کیونکہ محمد بن فضل متروک ہے اور خارجہ سے روایت کر کے کہا ہے۔اس کو مرفوع کہنا وہم ہے اور امام احمد سے نقل کیا کہ موقوف صواب ہے اور مؤطا میں بھی موقوف ہے۔چھٹی حدیث۔جابر کی حدیث کو ابن عدی نے معلول کہا اور اس کے راوی لَیث کو امام احمد اور نسا ئی ابن معین نے ضعیف کہا ہے اگرچہ ُشعبہ اور َثوری نے اُس سے روایت کیا اور باوجود اس کے ضعف کے اس کی حدیث لکھی جاتی ہے اور طبرانی کی روایت کو دارقطنی نے اس واسطے معلول کہا ہے کہ وہ سہل سے مروی ہے اور سہل متروک ہے ثقہ نہیں۔اور دارقطنی نے جابر کی حدیث کو اس واسطے بھی معلول کہا ہے کہ اس حدیث کو ابن عمارہ اور۔۔{ FR 4512 }؂۔۔کے سوائے کسی نے مسند نہیں کیا اور وہ دونوں ضعیف ہیں اور َثوری اور اَبوالاحوص اور شعبہ اور اسرائیل اور شریک اور ابوخالد اور ابن عیینہ اور ابن عبد الحمید وغیرہ نے موسیٰ سے مرسل روایت کیا ہے اور یہی صواب ہے اور جابرجعفی اس کا راوی متروک ہے۔امام ابوحنیفہ نے کہا۔مَارَأَیْتُ بِاَکْذَبَ مِنْہُ۔{ FR 4953 }؂ (برہان شرح مواہب الرحمٰن) و فی التقریب جابر الجعفی ضعیف رافضی { FR 4955 }؂ اور لَیث اس کا تابع { FN 4512 } ؂ یہ نقطے مصلحت سے خالی نہیں ۱۲۔منہ { FN 4953 }؂ میں نے اُس سے بڑھ کر جھوٹا نہیں دیکھا۔{ FN 4955 }؂ تقریب التہذیب (لابن حجر عسقلانی) میں ہے کہ جابر جعفی ضعیف اور رافضی (یعنی صحابہ کرام کی گستاخی کرنے والا) ہے۔