فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 55
جواب پہلا۔بخاری نے جُزْءُ القراءة میں فرمایا ہے یہ خبر قِرَاءَةُ الْإِمَامِ لَهٗ قِرَاءَةٌ لَمْ يَثْبُتْ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَهْلِ الْحِجَازِ وَأَهْلِ الْعِرَاقِ وَغَيْرِهِمْ لِإِرْسَالِهٖ وَانْقِطَاعِهٖ۔قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَرَوَى الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا يَدْرِيْ أَسَمِعَ جَابِرٌ مِنْ أَبِي الزُّبَيْرِ۔{ FR 4591 } دوسرا جواب۔یہ حدیث تمیم۱ ابن سالم نےا۱نس سے اور عاصم۲ بن عبد العزیز مدنی نے عون بن عبد العزیز سے اور اس نے ابن۲ عباس سے اور محمد ۳بن عباد نے اسماعیل سے اور اس نے سہیل سے اور اس نے ابو ۳ہریرہ سے اور اسماعیل۴بن عمرو نے حسن بن صالح سے اور اس نے ابوہارون سے اور اس نے ابو۴سعید سے اور محمد۵ بن فضل نے اپنے باپ سے اور اس نے سالم بن عبداللہ سے اور اس نے عبد اللہ ۵بن عمر سے اور احمد۲ بن عبد الرحمٰن نے جا۶بر سے روایت کیا۔۱انس کی روایت ابن حباّن کی’’ کِتَابُ الضُّعَفَاءِ‘‘ میں ہے اور ابن۴ عباس کی دارقطنی میں اور ابوہر۳یرہ کی بھی دارقطنی میں۔اور ابو۴سعید کی کامل میں اور طبرانی کی اوسط معجم میں اور عبد اللہ۵ بن عمر کی دارقطنی میں اور جا۶بر کی طحاوی‘ ابن ماجہ‘ مؤطا محمد‘ دار قطنی‘ بیہقی‘ مسند ابوحنیفہ میں ہے۔حافظ نے کہا ہے جابر کی حدیث اس کے کئی طرُق ہیں صحابہ سے اور سبھی روایتیں معلول ہیں اور پہلی روایت کو ابن حباّن نے کہا ہے کہ یہ ابن سالم سے روایت ہے اور وہ ثقہوں کی مخالفت کرتا ہے۔اس کی روایت مجھ کو پسند نہیں۔پس یہ حجت کے لائق ہی کب ہے اس سے مجہول اور ضعیف لوگ روایت کرتے ہیں۔انتہٰی۔دوسری حدیث کی نسبت دارقطنی نے کہا ہے یہ معلول ہے اور موقوف ہے عاصم قوی { FN 4591 } ’’ امام کی قراءت ہی اس (مقتدی )کی قراءت ہے‘‘ اہل حجاز اور اہل عراق وغیرہ میں سے اہل علم کے نزدیک یہ (روایت) اپنے مرسل اور منقطع ہونے کی وجہ سے ثابت نہیں ہے۔امام بخاریؒ نے کہا: اور (اسے) حسن بن صالح نے روایت کیا ہے، انہوں نے جابر سے، جابر نے ابوالزبیر سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔اور وہ نہیں جانتے کہ آیا جابر نے ابوالزبیر سے سنا (یا نہیں)۔(القراءة خلف الإمام للبخاري، بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلْإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ)