فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 54
نے ابوہریرہ سے یہ لفظ نقل نہیں کیا۔ابوخالد کا اس زیادتی میں کوئی تابع نہیں (یہاں پھر ابن اسحاق کی حدیث یاد کرو ابن اسحاق کے تابع زید بن واقد اور سعید بن عبد العزیز اور عبد اللہ بن علاء اور ابن جابر ہو چکے ہیں دیکھو ابوداؤد) عینی‘ شوکانی وغیرہ نے اس حدیث کی تصحیح کو ابن خزیمہ اور مسلم اور احمد حنبل سے نقل کیا ہے اور منذری نے ابوداؤد پر تعقب کیا ہے۔مجھ کو اس تذکرہ سے یہ مقصود ہے کہ حدیث جرح سے خالی نہیں۔مسلم نے بھی یہ بات کہہ کے کہ یہ حدیث مجمع علیہ نہیں اس روایت کا نقل کرنا اپنی صحیح میں پسند نہ کیا۔پھر بعد تسلیم اس حدیث کےاور بنظر حدیث ابوموسیٰ جو مسلم میں ہےہمارے وہی جواب جو آیتِ شریف میں دیئے ہیں ملاحظہ فرمائیے۔حقیقی جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ حدیث احادیث حکم قِرَاءَةُ فَاتِـحَةِ الْکِتَابِ کے خلاف نہیں۔متقدمین اور عامہ اہلِ اصول کے نزدیک اس لئے کہ ان کے نزدیک عام خاص پر مبنی ہے اور یہی حق ہے اور متأ خرین اہلِ اصول کے نزدیک اس واسطے کہ ان کے نزدیک بھی خاص مقارن کے ساتھ تخصیص کر لینا نسخ نہیں اور اس مقام میں عبادہ ہی عام اور خاص کا راوی ہے۔پس یہ تخصیص بالمقارن ہوئی۔یا اس لئے کہ یا یہ عام مخصوص البعض ہے اور عام مخصوص البعض کی تخصیص ممنوع نہیں۔تیسرے اعتراض کے جواب تفصیل اعتراض کی یہ ہے کہ عبد اللہ بن شَدَّاد سے روایت ہے۔مَنْ کَانَ لَہٗ اِمَامٌ فَقِرَاءَةُ الْاِمَامِ لَہٗ قِرَاءَةٌ { FR 4952 }جب امام کی قراءت مقتدی کی قراءت ہوئی اور امام کی نیابت شرعاً ثابت ولایت امام دلیل عجز ہے۔حقیقتاً عجز یہاں موجود نہیں۔پس یہ عجز حکماً ہو گا۔علاوہ بریں امام کی قراءت مقتدی کی قراءت ہے۔اگر مقتدی آپ بھی پڑھے گا تو اس کی دوقراءتیں ہو جائیں گی۔نیز تعارض ادلّہ میں منع کو تقدیم حاصل ہے۔پھر یہ جواز سے سند میں قوی ہے اور اس کے جابر راوی نے فاتحہ پر بھی اس کو حاوی سمجھا ہے اور ماموم کو قراءت سے مستثنیٰ کیا ہے۔{ FN 4952 } جس کا امام ہو تو امام کی قراءت ہی اس (مقتدی )کی قراءت ہے۔(سنن الدارقطنی، کتاب الصلاۃ، باب ذکر قولہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَمن کان لہ إمام فقراءۃ الإمام لہ قراءۃ)