فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 43
الاعتراض الثانی۲۔حمل النووی ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ۔۔۔على من عجز عَن الْفَاتِحَة، فَحَملُه عَلَيْهِ غير صَحِيح، لِأَنَّهُ مَا فِي الحَدِيث شَيْء يدل عَلَيْهِ۔أقول جاء فی روایة لابی داوٗد و النسائی فی ھذہ القصة فان کان معک قرآن فاقرأْ واِلَّا فاحمد اللہ تعالیٰ و کبّرہ و ھلّلہ فقد وقع ما ید ل علی ان الحمل صحیح۔الاعتراض الثالث۔۳۔دعوی تیسر الفاتحة تحکم۔أقول الواجب و الفرض فی العمل سواء و انکار التیسر بعد اختیار الوجوب او الفرضیة تـحکم۔{ FR 4586 } مولوی صاحب نے بعد ظاہر ہوئی ہو۔یہ بات قبولیت سے بعید ہے کہ اعرابی نہ تو جانتا ہو اور نہ ہی آنحضو ر ﷺنے اسے فرضیت فاتحہ کا حکم دیا۔اور (اس اعتراض کے جواب میں) تیسری بات یہ ہے کہ بخاری کی روایت میں نیت کرنے کا بھی ذکر نہیں آیا۔اگر یہ فرض ہوتی تو نبی ﷺ اسے (اس کا) حکم دیتے کیونکہ یہ موقع سکھانے اور کھول کر بیان کرنے کا موقع تھا۔اور چوتھی بات یہ ہے کہ بخاری، ترمذی اور ابوداوٗد کی روایت میں یہ ہے کہ پھر وضو کرو جس طرح اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے۔پھر تشہد پڑھو اور کھڑے ہوجاؤ اور نسائی اور ابوداوٗد کی روایت میں ہےکہ پھر اللہ اکبر کہو اور اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرو اور اس کی ثناء وتعریف کرو۔اور نسائی کی روایت میں يُثْنِيْ (وہ ثناء کرے) کی بجائے يُمَجِّدُهُ کا لفظ ہے یعنی وہ اس کی بزرگی وبرتری بیان کرے۔پھر ابو داود نے (دیگر) حرکات واذکار کی تکبیرات کی بات بیان کی ہے۔اور احمد (بن حنبل) اور ابوداوٗد نے سورۂ فاتحہ کی قراءت اور رکوع کے وقت ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھنے اور کمر کو سیدھا کرنے کا ذکر کیا ہے۔اور اسحاق بن راہویہ نے سجدے کے پُرسکون ہونے اور جِلسۃ الاستراحۃ کا ذکر کیا ہے۔اور ابوداوٗد نے ران کو بچھانے، درمیانی قعدہ اور قراءت نہ کرسکنے کی حالت میں الحمد للہ ، اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ کہنے کا ذکر کیا ہے۔اور تمہارے نزدیک یہ امور یقیناً فرائض میں شامل ہیں، کیونکہ نبی ﷺ نے اس (اعرابی) کو (ان کا) حکم دیا۔اور ان امور کے فرض نہ ہونے کی آپؐ نے وضاحت نہیں فرمائی۔اور یہ موقع سکھانے اور کھول کر بیان کرنے کا موقع تھا۔اور نیت، آخری قعدہ، درودشریف اور سلام کا ذکر نہیں فرمایا۔پس ان میں سے بعض فرض اور بعض غیرواجب نہیں ہوسکتے کیونکہ نبی ﷺ نے انہیں (اس حدیث میں) کھول کر بیان نہیں فرمایا۔حالانکہ یہ موقع سکھانے کا موقع تھا۔{ FN 4586 } دوسرا اعتراض یہ ہے کہ نوویؒ نے الفاظ ’’ پھر (قرآن میں سے) جو تمہیں میسر ہو پڑھو‘‘ کو فاتحہ نہ پڑھ سکنے والے پر محمول کیا ہے۔(علاّمہ عینی ؒ نے لکھا ہے کہ) اور اُن کا اس پر اطلاق کرنا درست نہیں، کیونکہ اس حدیث میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جو اس پر دلالت کرے۔میں کہتا ہوں کہ ابوداؤد اور نسائی کی روایت کے مطابق اس واقعہ میں یہ (ذکر) آیا ہے کہ اگر تمہیں قرآن یاد ہو تو (اُسے) پڑھو۔وگرنہ اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کی تکبیر اور اس کی تہلیل کا ذکر کرو۔پس یہ (ذکر) آچکا ہے جو اس (بات) پر دلالت کرتا ہے کہ (فاتحہ نہ پڑھ سکنے والے پر) اطلاق کرنا درست ہے۔تیسرا اعتراض اس دعویٰ پر (کیا) ہے کہ سورۂ فاتحہ (کی قراءت) کا میسر آجانا ایک فیصلہ کن امر ہے۔میں کہتا ہوں کہ عمل میں واجب اور فرض برابر ہے اور واجب یا فرض کے اختیار کے بعد اس کے میسر آنے کا انکار کرنا بے جا زبردستی ہے۔