فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 42 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 42

الاعتراض الاوّل۔لَو كَانَتِ (الْفَاتِحَةُ) فَرْضًا لَأَمَرَهُ النَّبِیُّ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسلّم، لِأَنَّ الْمقَام مقَام التَّعْلِيم۔{ FR 5033 }؂ الـجواب۔امااوّلا۔۱ قد امر النبی صلعم کما رایت فی روایة البخاری و احمد وابن حبان و ابی داؤد۔واماثانیًا۔۲۔فقد ترک فی ہذا الحدیث فی جمیع طرقہ ذکر القعدة الاخیرة فنقول لوکان فرضا (کما تقولون) لامرہ النبی صلعم لان المقام مقام التعلیم۔فانقلت لعل فرضیة قعدة الاخیرة مثبت بعد ہذہ القصة قلت فلعل فرضیة الفاتحة ثبت بعد ہذہ القصة۔ہذا بعد التسلیم ان الاعرابی ما کان یعلم و ما امرہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرضیت الفاتحة۔و اماثالثًا۔۳ فما وقع فی روایت البخاری ذکر النیة لوکان فرضا لامرہ النبی صلعم لان المقام مقام التعلیم و البیان۔وامارابعًا۔۴ ففی روایة البخاری و الترمذی و ابی داؤد فتوضأْ کما امرک اللہ ثم تشھد و اقم و فی روایة للنسائی و ابی داود ثُمَّ يُكَبِّرُ وَيَحْمَدُ اللهَ وَيُثْنِي عَلَيْهِ،وفی النسائی يُمَجِّدهُ مقام يُثْنِي، ثم ساق ابوداؤد الامر بتکبیرات الانتقال و التسمیع۔و احمد و ابوداؤد ذکرا قراءت الفاتحة و وَضْعَ الْیَدَیْنِ علی الرکبتین حال الرکوع و مدّ الظہر واسحاق بن راہویہ ذکر تـمکین السجود و جلسة الاستراحة و ابوداؤد فرش الفخذ و التشھد الاوسط والتمجید و التکبیر و التہلیل عند عدم استطاعة القراءة فلابد عندک ان تکون ہذہ الاشیاء فرائض لان النبی صلعم امرہ و لم یبیّن عدم فریضة ہذہ الاشیاء و المقام مقام التعلیم و البیان و ما ذکر النیة و التشھد الاخیر و الصلوٰة و السلام فما یکون بعضھا فرضًا و بعضھا مشروعًا لان النبی صلعم لم یبیّنھا و المقام مقام التعلیم۔{ FN 5033 }؂ پہلا اعتراض یہ ہے کہ اگر سورۂ فاتحہ (پڑھنی) فرض ہوتی تو ضرور آنحضورﷺ اُس(اعرابی) کو (فاتحہ پڑھنے کا) حکم دیتے۔کیونکہ وہ موقع سکھانے کا موقع تھا۔جواب: پہلی بات تو یہ ہے کہ نبی ﷺ (اس کا) حکم دے چکے ہیں، جیسا کہ بخاری، احمد (بن حنبل)، ابن حباّن اور ابوداود کی روایت میں تم دیکھتے ہو۔اور (اس اعتراض کے جواب میں) دوسری بات یہ ہے کہ اس حدیث کی تمام سندوں میں آخری قعدہ کا ذکر چھوڑ دیا گیا ہے۔لہٰذا (تمہارے کہنے کی طرح ہی) ہم کہتے ہیں کہ اگر یہ (قعدہ) فرض ہوتا تو ضرور نبی ﷺ اُسے (اس کا) حکم دیتے۔کیونکہ یہ موقع تعلیم دینے کا موقع تھا۔پھر اگر تم کہو کہ ممکن ہے کہ آخری قعدہ کی فرضیت اس واقعہ کے بعد متحقق ہوئی ہو، تو میں کہوں گا کہ ممکن ہے کہ سورۂ فاتحہ (پڑھنے) کی فرضیت (بھی) اس واقعہ کے