فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 44
عدم خصوصیت فاتحہ پریہ حدیث بھی استدلال میں فرمائی ہے۔و ما رواہ ابوداوٗد عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَمَرَنِي النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُ نَادِيَ: أَنَّهٗ لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقِرَاءَةٍ وَلَوْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ۔{ FR 4587 } اس کا پہلا جواب (۱) یہ حدیث جعفربن میمون سے روایت ہے اور وہ ثقہ نہیں۔جیسے کہ نسائی نے کہا ہے‘ اور امام احمد نے کہا ہے جعفربن میمون حدیث میں قوی نہیں ‘اور ابن عدی نے کہا ہے جعفربن میمون کی حدیث کو ضعفاء میں لکھنا چاہیے۔پس حدیث غوایل جرح سے خالی تر ہے۔(۲) اس حدیث کو ابوداؤد نے ابو ہریرہ سے ان لفظوں کے ساتھ روایت کیا ہے۔أَمَرَنِيْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُنَادِيَ: أَنَّهٗ لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقِرَاءَةِ فَاتِـحَةِ الْكِتَابِ فَـمَا زَادَ{ FR 4883 }(سنن أبی داوٗد، کتاب الصلاة، أبواب تفریع استفتاح الصلاة، بَابُ مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلَاتِهٖ بِفَاتِـحَةِ الْكِتَابِ)پس آپ کی روایت اس روایت سے کسی طرح بڑھ کر نہیں۔(۳) یہ حدیث احادیث مصرح بفرضیت کا مقابلہ ہی کب کر سکتی ہے۔(۴) ابوہریرہ کا فتوی اس کے خلاف ہے اور راوی جب اپنی روایت کے خلاف عمل کرے تو آپ کے نزدیک اور آپ کے اصول میں وہ روایت حجت نہیں رہتی گو اہلِ حدیث کو اس اصول میں کلام ہے اور یہ اصل ان کے نزدیک صحیح نہیں۔اِلَّا اب یہ الزام قائم ہے۔امام کے پیچھے فاتحة الکتاب پڑھنے پر فاتحةالکتاب سے منع کرنے والے اکثر اعتراضات ذیل کیا کرتے ہیں اوّل۔فاتـحة الکتاب کا پڑھنا آیت اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ { FR 4884 } کے خلاف ہے۔{ FN 4587 } اور جو ابو داؤد نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں اعلان کروں کہ قراءت (قرآن) خواہ سورۂ فاتحہ ہی ہو، کے بغیر نماز نہیںہوتی۔{ FN 4883 } رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں اعلان کردوں کہ سورۂ فاتحہ کی قراءت کے بغیر نماز نہیں اور جو (اس سے) زیادہ ہے (اس کے بغیر بھی نہیں۔) { FN 4884 } جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنا کرو۔(الأعراف:۲۰۵)