فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 40 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 40

صاحبِ ایقاظ نے آپ لوگوں کے عجائبات ذکر کر کے آپ کو فرمایا ہے۔وأعجب من هٰذَا أَنَّـكُمْ إِذا أَخَذْتُم الحَدِيث مُرْسلًا كَانَ أَو مُسْندًا لموافقة رَأْي صَاحبكُم ثمَّ وجدْتُم فِيهِ حكمًا يُخَالف رَأْيه لم تَأْخُذُوا بِهٖ فِي ذَالِك الحكم وَهُوَ حَدِيث وَاحِد وَكَانَ الحَدِيث حـجَّةً فِيمَا وَافق رَأْي من قلدتموه وَلَيْسَ بِحجَّة فِيمَا خَالفه رَأْيه۔ولنذكر من هٰذَا طرفا لِأَنَّهٗ من أعجب أَمرهم۔۔۔۔وَاحْتَجُّوا على أَن الْفَاتِحَة لَا تتَعَيَّن فِي الصَّلَاة بِحَدِيث الْمُسِيء فِي صلَاته حَيْثُ قَالَ لَهٗ اِقْرَأ مَا تيَسّر من الْقُرْآن وخالفوه فِيمَا دلّ عَلَيْهِ صَرِيحًا فِي قَوْله ثمَّ اركع حَتَّى تطمئِن رَاكِعا ثمَّ ارْفَعْ حَتَّى تعتدل قَائِما ثمَّ اسجد حَتَّى تطمئِن سَاجِدا۔{ FR 4584 }؂ اصل حدیث بخاری میں بھی آئی ہے۔حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيٰى عَنْ عُبَيْدِ اللهِ قَالَ حَدَّثَنِيْ سَعِيْدُ بْنُ أَبِيْ سَعِيْدٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ المَسْجِدَ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ وَقَالَ: «ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ» فَرَجَعَ يُصَلِّي كَمَا صَلّٰى ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ «ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ» ثَلَاثًا، فَقَالَ وَالَّذِيْ بَعَثَكَ بِالحَقِّ مَا أُحْسِنُ غَيْرَهٗ فَعَلِّمْنِيْ فَقَالَ «إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَكَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ القُرْآنِ ثُمَّ ارْكَعْ حَتّٰى { FN 4584 } ؂ اور مجھے اس بات سے حیرت ہے کہ جب تم اپنے امام کی رائے سے موافق کوئی حدیث خواہ وہ مرسل ہو یا مسند لیتے ہو، پھر تم اس میں کوئی ایسا حکم پاتے ہو جو اُس (امام) کی رائے کے مخالف ہوتا ہے، تو تم اُس سے وہ حکم اخذ نہیں کرتے۔حالانکہ وہ ایک حدیث ہی ہوتی ہے۔اور (امام) جس کی تم پیروی کرتے ہو، اُس کی رائے سے جو حدیث موافق ہو وہ تو حجت ہوتی ہے اور جس کی مخالفت اُس کی رائے کرے، وہ بالکل بھی حجت نہیں ہوتی۔اور ہم اس (انوکھے پن) میں سے کچھ ذکر کریں گے کیونکہ یہ ان کا نہایت عجیب معاملہ ہے۔(پھر صاحب ایقاظ نے اس کی مثالیں بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ) …… اور ان (مقلدین) نے نماز کو خرابی سے پڑھنے والے شخص کی حدیث جس میں رسول اللہ ﷺ نے اُس سے فرمایا کہ قرآن میں سے جو میسر ہو پڑھو، سے یہ استدلال کیا ہے کہ سورۂ فاتحہ نماز میں پڑھنا لازم نہیں۔اور اس (حدیث) میں اس (امر) کی مخالفت کی ہے، جو آنحضور ﷺ کے قول سے واضح طور پر ثابت ہے کہ ’’پھر رکوع کرو، یہاں تک کہ رکوع میں تمہیں اطمینان ہوجائے۔پھر اُٹھو، یہاں تک کہ اطمینان سے کھڑے ہوجاؤ۔پھر سجدہ کرو، یہاں تک کہ سجدہ میں تمہیں اطمینان ہوجائے۔(إيقاظ همم أولى الأبصار، الخاتمة فِي إبطال شبه المقلدين، صفحہ ۱۲۹، ۱۳۰ و ۱۳۵)