فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 39 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 39

قصہ میں کہا ہے۔ثُمَّ اقْرَأْ بِاُمِّ الْقُرْآنِ ثُمَّ اقْرَأْ بِـمَا شِئْتَ۔{ FR 4881 }؂ اس حدیث کے ان مصرح الفاظ کو دیکھ کر انصاف اور قیام عند اللہ کو یاد کر کے فرمائیے کہ اب بھی یہ حدیث آپ کے نزدیک فرضیت فاتحہ کے خلاف ہے۔اس حدیث کے اور بھی بہت سی جملے ہیں جو بخاری کی روایت میں مذکور نہیں۔آپ کو ہم ایک فائدہ کی بات عرض کرتے ہیں۔اس مقام پر بخاری نے خلیل بن احمد سے روایت کیا يُكْثَرُ الْكَلَامُ لِيُفْهَمَ{ FR 4882 }؂۔تیسرا جواب۔آیت شریف کے لفظ مَا تَيَسَّرَ کے اکثر جواب اس حدیث شریف میں بھی پڑھ لیجیے۔چوتھا جواب۔یہ حدیث خبرِواحد ہے اور خبر واحد ظنیّ ہوتی ہے (آپ کے یہاں) اور ظنی کے تخصیص ظنیّ سے ممنوع نہیں۔یاد رہے اہل حدیث خبرِ احاد میں تفصیل کرتے ہیں بعض قسم کو قطعی اور بعض کو ظنیّ جانتے ہیں۔پانچواں جواب۔اس حدیث میں مَا تَيَسَّرَسے وہ قرآن مراد ہے جو فاتحہ کے سوا ہو۔کیونکہ فاتحة الکتاب کی حدیث زیادة غیرمعارض ہے اور زیادة ثقہ بالاتفاق آپ کے نزدیک مقبول ہے۔چھٹا جواب۔یہ حدیث جس قدر آپ نے بیان فرمائی محتمل ہے تعیین فاتحہ سے پہلے کی ہو یا اعرابی ابھی فاتحہ پڑھنے کی طاقت نہ رکھتا ہو یا فاتحہ کا مسئلہ خوب جانتا تھا۔آپ نے فرمایا اس کے ساتھ اور قرآن بھی پڑھ لے یا اس کو خاص کیا ہے اس تحییز میں۔پس حدیث محتمل الوجوہ ہو گئی اور محتمل حجت قطعی مثبت فرضیت نہیں۔اصل یہ ہے کہ قاعدہ اَلتَّخْصِیْصُ نَـسْخٌ متأخرین کی گھڑت ہے سلف کا قول نہیں۔دلائل قویہ سے ثابت نہیں۔ساتواں جواب۔اس اعرابی کی حدیث حجت ہے یا نہیں۔اگر نہیں تو اثبات مطلب میں کیوں لائے۔اگر ہے تو اسی حدیث میں رکوع اور قومہ اور سجود کے طمانینت کا بھی حکم ہے اس کو آپ نے کیوں چھوڑ رکھا ہے اور اسے فرض کیوں نہیں کہتے اور اس کی فرضیت سے کیوں انکار کیا۔{ FN 4881 }؂ پھر تم اُمّ القرآن (یعنی سورۂ فاتحہ) پڑھو۔پھر (قرآن کریم سے) جو چاہو پڑھو۔(مسند أحمد بن حنبل، مسند الكوفيين، حديث رفاعة بن رافع الزرقيؓ ) { FN 4882 }؂ کلام اس لیے زیادہ ہوتا ہے تاکہ سمجھا جاسکے۔