فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 41 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 41

تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتّٰى تَعْدِ لَ قَائِمًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتّٰى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتّٰى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا وَافْعَلْ ذَالِكَ فِيْ صَلَاتِكَ كُلِّهَا۔{ FR 4585 }؂ بخاری۔دیکھو طمانینت رکوع و سجود کا حکم یہاں موجود ہے اور آپ لوگ طمانینت کو فرض نہیں کہتے رکوع اور سجود کی طمانینت پر نصوصِ کثیرہ موجود ہیں بخوف ِطوالت یہاں نہیں لکھ سکتے۔انھواں جواب۔اس حدیث میں جس قدر احکام مذکور ہوئے وہی نماز کے فرض ہیں یا کوئی اور بھی فرض ہے اگر یہی فرض ہیں جو اس میں مذکور ہوئے تو نیّت اور قعدہ اخیرہ اس حدیث کی کسی روایت میں دکھلا دیجیے۔یا فرمائیے کہ یہ فرض ہی نہیں کیونکہ اس حدیث میں مذکور نہیں۔اگر فرمائیں گے کہ اور دلائل سے دوسرے امور کی فرضیت ثابت ہو چکی ہے تو معلوم ہوا کہ اس حدیث میں فرائض کے حصر نہیں۔پس اسی طرح فرضیت فاتحہ بھی کسی اور دلیل سے ثابت ہے گو اس حدیث میں مذکور نہ ہو۔اور اگر بخاری کی روایت پر آپ حصر رکھیں تو کئی اور فرائض بھی اس روایت میں مذکور نہیں مثلاً وضو وغیرہ۔اس اعرابی کی حدیث میں جس سے مولوی صاحب اور ان کے ہم مذہبوں نے فرضیت مطلق مَاتَیَسَّرَ پر استدلال پکڑا ہے۔ایک ضروری بات قابل گزارش ہے۔عَینی نے اسی حدیث سے استدلال پکڑ کر امام نووی پر تین اعتراض جمائے ہیں۔{ FN 4585 } ؂ محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا ، انہوں نے کہا: یحيٰ نے ہمیں بتایا کہ عبیداللہ سے روایت ہے۔انہوں نے کہا: سعید بن ابی سعید نے مجھے بتایا۔انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے۔اتنے میں ایک شخص آیا اور اس نے نماز پڑھی۔پھر اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔آپؐ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: واپس جاؤ اور نماز پڑھو۔کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔پھر وہ لَوٹ کر (اسی طرح) نماز پڑھنے لگا، جس طرح اس نے (پہلے) پڑھی تھی۔پھر وہ آیا اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔آپ نے فرمایا: واپس جاؤ اور نماز پڑھو۔کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔آپ نے تین بار ایسا ہی فرمایا۔اس نے عرض کیا: اس ذات کی قسم ہے جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔میں اس سے اچھی نماز نہیں پڑھ سکتا۔اس لئے آپؐ مجھے سکھائیں۔آپ نے فرمایا: جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہو۔پھر قرآن میں سے جو تمہیں میسر ہو، پڑھو۔پھر رکوع کرو، یہاں تک کہ رکوع میں تمہیں اطمینان ہوجائے۔پھر اُٹھو، یہاں تک کہ اطمینان سے کھڑے ہوجاؤ۔پھر سجدہ کرو، یہاں تک کہ سجدہ میں تمہیں اطمینان ہوجائے۔پھر اُٹھو، یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ۔اور اپنی ساری نماز میں اسی طرح کرو۔(بخاری‘ کتاب الاذان باب وجوب القراءة للامام و المأموم)