فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 30
جواب گیارہواں۔امام ابوحنیفہ کے نزدیک عام کی تخصیص جائز ہے۔جیساکہ جواب سیوم میں گذرا ہے۔اگر دعویٰ عدم جواز تخصیص ہے تو کسی معتبر کتاب سے امام کا انکار ثابت کر دیجیے اور دکھلا دیجیے کہ امام کے نزدیک تخصیص عام خبرِواحد سے جائز نہیں۔ہم کو صرف مقلّدین کے اپنے اقوال سے غرض نہیں۔ا س معاملہ میں امام کا قول دکھلانا ہو گا ہم پر تو ہمیشہ یہ طعن کہ امام کے قول کو سند نہیں پکڑتے اور خود بزدوی اورمتأخرین اہلِ اُصول اور عیسیٰ بن اِباّن وغیرہ کے اقوال پر کاربند یہ کیا غضب ہے کہ تم کو تو ربط غیر سے اور مجھے یہ حکم کہ زنہار تو کسی سے نہ مل بارہواں جواب۔یہ عام کل حنفیوں کے نزدیک مخصوص البعض ہے اورجو عام مخصوص البعض ہو اس عام کی تخصیص بالاتفاق جائز ہے۔مخصوص البعض تو اس لئے ہے کہ فَاقْرَؤُا مَا تَیَسَّرَ{ FR 4843 }سے کل نمازیوں کے واسطے مَاتَیَسَّرَکا پڑھنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔مقتدی ہوں یا منفرد یا امام۔اور عام حنفیہ مقتدی کے لئے قراءت قرآن بالکل ضروری بلکہ جائز بھی نہیں سمجھتے۔اگر اس آیت شریف کے لحاظ سے مطلق قراءت سب نمازیوں پر ضرور ہوتی جیسا کہ لفظ فَاقْرَؤُا سے ظاہر ہے تو مقتدی کے واسطے بھی حنفی لوگ کسی قدر قرآن کریم کا پڑھنا ضروری کہتے لَاکِنْ انہوں نے ایک ضعیف حدیث یا ایسی حدیث سے جس میں کلام ہے (وہ قِرَاءَةُ الْاِمَامِ لَہٗ قِرَا ئَ ةٌ { FR 4844 }ہے) اس اِقْرَؤُوْا کے حکم کو خاص کر دیا عام نہ رکھا۔دیکھو امام الکلام میں لکھا ہے۔فان قلت قولہ تعالیٰ فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ من القرآن ید ل علی افتراض (الفاتحة) علٰی کل انسان۔قلت ھو عندنا (الحنفیة) مخصص بحدیث قِرَاءَةُ الْإِمَامِ لَهٗ قِرَاءَةٌ فلا یثبت فرضیة لہ (انتہٰی)۔{ FR 4573 } ایسا ہی عینی حنفی نے ہدایہ کی شرح میں کہا ہے۔تو اب اس مخصص مَاتَیَسَّرَ کی تخصیص سے باوجودیکہ اس تخصیص کے لئے ہم { FN 4843 } پس (قرآن میں سے) جتنا میسر ہو پڑھ لیا کرو۔(المزمل:21) { FN 4844 } امام کی قراءت ہی اس (مقتدی )کی قراءت ہے۔(ابن ماجہ، کتاب إقامۃ الصلاۃ، باب إذا قرأ الإمام فأنصتوا) { FN 4573 } اگر تم کہو کہ اللہ تعالیٰ کا قول فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ (یعنی قرآن میں سے جتنا میسر ہو پڑھ لیا کرو) ہر انسان پر (سورۂ فاتحہ کی قراءت کے) فرض ہونے کی دلیل ہے، تو میں کہتا ہوں کہ یہ ہمارے (یعنی احناف کے) نزدیک ایک حدیث کہ ’’امام کی قراءت ہی اس (مقتدی )کی قراءت ہے‘‘ کی وجہ سے مخصوص ہے۔پس یہ اس کے لیے فرض ثابت نہیں ہوتی۔