فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 31 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 31

ایسی صحیح حدیثیں پیش کرتے ہیں جن میں کلام ہی نہ ہو اور جس کے راوی بھی بہت ہوں اور جس کے حق میں امام بخاری تواترکا دعویٰ کر چکے ہوں اور ان کے دعویٰ کو کسی نے باطل نہ کیا ہو کیوں پہلوتہی کرتے ہیں۔ضعیف یا منظور فیہ حدیث کو آنکھ بند کر کے مخصص مان لیں اور جس کو اِمَامُ الْاَئِـمَّة متواتر بھی کہہ چکا ہو اور جو حدث کلام سے محفوظ رہی ہو اس کو مخصص مان لینے سے چکراویں۔اس ہٹ دھرمی کی بھی کوئی حد ہے۔افسوس ؂ ہمیں تو صبر کو کہتے ہیں شیخ و واعظ سب انہیں تو کوئی بھی کہتا نہیں وفا کے لئے اگر یہ عذر ہے کہ اس آیت کو اجماع نے مخصص کیا ہے تو اس پر عرض ہے وہ اجماع کہاں ہے۔کب ہوا۔پھر اگر اجماع ہی مخصص ہے تو بھی آیت مخصوص البعض ہو گئی اور ایسا عام آپ صاحبوں کے نزدیک قطعی نہیں اور غیرقطعی مثبت فرضیت نہیں۔پس مطلق قراءت کی فرضیت بھی ٹوٹ گئی۔علاوہ بریں اس عام مخصوص البعض کی تخصیص سے کون مانع ہے۔مولوی صاحب ہم پر تخصیص کے ماننے سے جس قدر آپ کے اعتراض وارد ہوئے تھے وہی سارے اعتراض آپ پر اُلٹ پڑے۔اب جو جو جواب آپ اپنے لئے تجویز کریں یا کر چکے ہوں وہی جواب ہماری طرف سے بھی سمجھیے اور انصاف سے کہہ دیجیے۔بیت جواب اس بات کا گھر ہی میں یہ کیسا نکل آیا میں الزام ان کو دیتا تھا قصور اپنا نکل آیا تیرہواں جواب۔آیت شریف فَاقْرَءُوْاوْا مَا تَيَسَّرَ غیر قادر علی القراء ت کے لحاظ سے آپ کے نزدیک کیا تمام اہل اسلام کے نزدیک مخصوص ہے۔جب مخصوص ہوئی تو ظنیّ ہو گئی اور عام مخصوص البعض کی تخصیص بلاخلاف خبرِواحدسے جائز ہے۔قال صاحب امام الکلام خص منہ مدرک الرکوع و العاجز عنہ بلانزاع۔{ FR 4574 } ؂ { FN 4574 } ؂ کتاب ’’امام الکلام‘‘ کے مصنّف نے کہاہے: رکوع پانے والا اور قراءت نہ کرسکنے والا بلا اختلاف اس (آیت) سے جُدا کیے گئے ہیں۔