فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 29 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 29

تَعَالٰى: {وَاللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ} ( قَالَ الشَّيْخُ عَلَمُ الدِّيْنِ الْعِرَاقِيّ: لَيْسَ فِي الْقُرْآنِ عَامٌّ غَيْرَ مَخْصُوْصٍ إِلَّا أَرْبَعَةَ مَوَاضِعَ: أَحَدُهَا: قَوْلُهٗ) {حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ}الـخ۔{ FR 4510 }؂ تلویح میں ہے۔حُكْمُ الْعَامِّ عِنْدَ عَامَّةِ الْأَشَاعِرَةِ التَّوَقُّفُ حَتّٰى يَقُومَ دَلِيلُ عُمُوْمٍ، أَوْ خُصُوْصٍ، وَعِنْدَ الْبَلْخِيِّ وَالْجَبَائِيِّ اَلْجَزْمُ بِالْخُصُوْصِ كَالْوَاحِدِ فِي الْجِنْسِ وَالثَّلَاثَةِ فِي الْجَمْعِ، وَالتَّوَقُّفُ فِيْمَا فَوْقَ ذَالِكَ وَعِنْدَ جَمْهُورِ الْعُلَمَاءِ إِثْبَاتُ الْحُكْمِ فِيْ جَمِيْعِ مَا يَتَنَاوَلُهٗ مِنَ الْأَفْرَادِ قَطْعًا وَيَقِيْنًا عِنْدَ مَشَايِــــــخِ الْعِرَاقِ وَعَامَّةِ الْمُتَأَخِّرِينَ، وَظَنًّا عِنْدَ جَمْهُوْرِ الْفُقَهَاءِ وَالْمُتَكَلِّمِينَ ، وَهُوَ مَذْهَبُ الشَّافِعِيِّ وَالْمُخْتَارُ عِنْدَ مَشَايِـخِ سَمَرْقَنْدَ حَتّٰى يُفِيْدَ وُجُوْبَ الْعَمَلِ دُوْنَ الِاعْتِقَادِ، وَيَصِحُّ تَخْصِيْصُ الْعَامِّ مِنَ الْكِتَابِ بِخَبَرِ الْوَاحِدِ وَالْقِيَاسِ۔{ FR 4511 }؂ { FN 4510 }؂ اہل علم متقدمین ومتأخرین اس پر متفق ہیں کہ عمومات کی تخصیص جائز ہے اور ان میں سے کسی قابل ذکر شخص نے اس کی مخالفت نہیں کی۔اور یہ اس شریعت مطہرہ سے ایسا معلوم ہے کہ اس سے ادنیٰ سا مسّ رکھنے والے سے بھی مخفی نہیں۔حتی کہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ کوئی (حکم بھی) عام نہیں مگر وہ مخصوص ہے سوائے اللہ تعالیٰ کے قول وَاللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيم کے، یعنی اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے۔شیخ علم الدین عراقی نے کہا: قرآن کریم میں صرف چار مواقع ایسے ہیں جہاں (قول) عام ہے مخصوص نہیں۔ان میں سے ایک اللہ تعالیٰ کا قول حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُم ہے یعنی تم پر تمہاری مائیں حرام کر دی گئی ہیں۔(ارشاد الفحول، المقصد الرابع فی الأوامر والنواھی والعموم، الفصل الرابع فی الخاص والتخصیص والخصوص، المسألة الثالثة: تخصيص العمومات وجوازه) { FN 4511 }؂ اکثر اشاعرہ کے نزدیک عام کے حکم میں توقف ہے،یہاں تک کہ (اس کے) عمومی ہونے یا مخصوص ہونے کے متعلق دلیل قائم ہو۔اور بلخی اور جبائی کے نزدیک (عام کو ) تخصیص سے حتمی کرنا ایسا ہی ہے، جیسے کسی جنس میں ایک اور جمع میں تین (یقیناً ہوتے ) ہیں اور اس سے زیادہ پر توقف ہے۔اور جمہور علماء کے نزدیک افراد میں سے جن کے لیے یہ (یعنی عام) مستعمل ہوتا ہے ان سب پر اس کا حکم ثابت ہے۔مشائخ عراق اور عام متأخرین کے نزدیک (اس کا ثابت ہونا) قطعی اور یقینی طور پر ہے۔جبکہ جمہورفقہاء اور متکلّمین کے نزدیک (اس کا ثابت ہونا) ظنی ہے۔امام شافعی ؒ کا بھی یہی مسلک ہے۔اور مشائخ سمرقند کے نزدیک (اس میں اس وقت تک) اختیار ہے جب تک کہ یہ اعتقاد کے علاوہ عمل کے واجب ہونے کا فائدہ دے۔اور (ان کے نزدیک) کتاب اللہ میں سے عام(قول) کی خبرواحد اور قیاس سے تخصیص کرنا درست ہے۔(التلويح على التوضيح، الْقِسْمُ الْاَ وَّلُ مِنْ الْكِتَابِ فِي الْاَدِلَّةِ الشَّرْعِيَّةِ، اَلرُّكْنُ الْاَ وَّلُ فِي الْكِتَابِ، اَلْبَابُ الْاَ وَّلُ فِي إفَادَتِهِ الْمَعْنَى، التَّقْسِيمُ الْاَ وَّلُ بِاعْتِبَارِ وَضْعِ اللَّفْظِ لِلْمَعْنٰى، فَصْلُ حُكْمِ الْعَامِّ)