فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 191 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 191

موجب بھی ہوتی ہیں۔مشورہ اگر عیب ہے تو وَشَاوِرْ ہُمْ میں تامل کیجیے۔سنو سنو سنو نہایت کا کمال چاہیے ہدایت کا نقصان کچھ ضرر نہیں دے سکتا سلف کا کیسا سچا فقرہ ہے۔اِنَّ الذُّنُوْبَ قَدْ یُوْصِلُ الْـجَنَّةَ وَ الْعِبَادَةُ قَدْ یَدْخُلُ النَّارَ۔{ FR 5533 }؂ کیا معنے معاصی سے کبھی توبہ کی راہ کھل جاتیہے اور عبادت سے کبھی انسان کبر اور ُعجب میں مبتلا ہو کر بالکل تباہ ہو جاتا ہے۔امام کا اگر معصوم ہونا اس لئے شرط ہے کہ لوگوں کی اصلاح ہوعام لوگ غلطی میں مبتلا نہ ہوں تو آپ جانتے ہو صرف امام کی عصمت سے یہ فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا اس لئے کہ امام کے اہلکار اور اس کے ملکوں پر چھوڑے ہوئے حاکم نہ معصوم ہونے ضرور ہیں اور نہ ان کا منصوص ہونا شرط ہے۔جناب پیغمبر اور جناب امیر کے نواب اور ُعماّل ہی کو دیکھ لو۔پس مناط حکم میں ان سے غلطی کا وقوع ممکن ہے اور آپ جانتے ہیں کہ اکثر لوگ امام تک نہیں پہنچ سکتے ُکل کا پہنچنا کیونکر ہو سکتا ہے۔اور آپ جانتے ہیں کہ صرف امام کی عصمت سے جب تک اس کا تسلط نہ ہواور ظاہر ی حکم نہ ہو لوگوں کو فائدہ کیونکر ہو سکتا ہے۔صاحب الزمان علیہ السلام کی حالت ملاحظہ کرو۔آپ جانتے ہیں کہ شخصی معاملات اورمنزلی انتظامات کے واسطے ہر ہر شخص کو ہروقت کے جزئیات کے لئے امام سے رجوع کرنا صریح محال ہے اگر کلیات جزئیات لے گا تو ضرور ہی اجتہاد میں غلطی کرے گا پس جس غرض پر عصمت اور امامت کو شیعہ امامیہ ثابت کرتے ہیں صرف اسی سے دنیا میں اصلاح کا قائم ہونا معلوم کیا یعنی اگر باری تعالیٰ اصلاح چاہتے تھے تو بقول آپ کے باری پر واجب تھا کہ امام کو تسلط دیتے۔دوسری بات جس کو فروگذاشت کیا یہ کہ مہاجرین ؓ کے حق میں لَاُکَفِّرَنَّ عَنْھُمْ سَیِّاٰتِـھِمْ وَلَاُدْخِلَنَّھُمْ جَنّٰتٍ تَـجْرِیْقرآن میں موجود ہے۔بھلا جن لوگوں کی نسبت کفارہ اور جنت میں لے جانے کا وعدہ ہو وہ آخر سز اپائیں واللہ عقل نہیں مانتی۔سنو سنو سنو مکفرات ذنوب بہت ہیں۔اوّل خالص توبہ۔دوم استغفار۔سیوم اعمال صالحہ۔چہارم مومن کی دعا۔پنجم رسول اللہ کی دعا۔ششم آپؐ کی شفاعت۔ہفتم احوال و صدمات جو مابعد الموت طاری { FN 5533 }؂ گناہ بھی جنت میں پہنچا دیتے ہیں اور عبادت بھی آگ میں داخل کر دیتی ہے۔