فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 192
ہوتے ہیں۔ہشتم۔وہ اعمال اور صدقات جن کا اثر میّت کو پہنچنا شرَع سے ثابت ہے جیسے میّت کی طرف سے روزہ رکھنا۔حج کر لینا۔میّت کی اولاد صالح۔میّت کا وہ علم جس کا نفع جاری رہے۔نہم۔دنیویہ صدمات۔دہم۔کرب قیامہ۔یازدہم۔اقتصاص عند المیزان۔دوازدہم۔صدق توحید۔سیزدہم۔رحمت اَرحم الراحمین جس کی سبقت غضب پر منصوص ہے۔علاّمہ مصنف نے یہ خیال نہ فرمایا کہ اگر صحابہ سے معاصی سرزد ہوئے تو کیا مکفرات ان کے لئے محال ہو گئے تھے۔نہیں نہیں نہیں ابوبکر کی نسبت آپ کا یہ الزام کہ ان میں حزن اور خوف تھا اور یہ بات شجاعت کے خلاف ہے۔غار کی آیت میں ان کو صاحب کہا گیا۔فرمایا اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ لَاتَـحْزَنْ اِنَّ اللہَ مَعَنَا اور صاحب ہونا اہل نارکی صفت ہے بھلا خائف بزدل حزن والا صاحب خلافت کے لائق ہے۔پیارے سچ کہتا ہوں قرآن ہی وہ کتاب ہے جس کو شَفَاءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ { FR 5534 } کہنا بالکل سچ ہے۔اب اس وہم کی دوا سنو۔موسیٰ علیہ السلام نے اللہ جلّ شَانُہٗ کے سامنے اقرار کیا ہے فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِ اور یعقوب علیہ السلام نے فرمایا اِنَّـمَا اَشْکُوْ بَثِّیْ وَ حُزْنِیْ اِلَی اللہِ اور سُبْحَانَہٗ وَتَعَالیٰ حضرت امام الانبیاء علیہ ا لصَّلوٰة والسلام کو صاحب کا خطاب دے کر فرماتا ہے وَمَا صَاحِبُکُمْ بِـمَجْنُوْنٍ۔جس حالت میں ان اولوالعزم کو خوف اور حزن اور صاحب ہونے نے امام اور رسول اللہ اور نبی ہونے سے نہیں روکا اور مطعون نہیں کیا تو ابوبکر کو خلافت سے کیوں مانع ہوئے اور کیوں مطعون کیا۔اور یہ وہم اور خلاف واقعہ الزام کہ معاذ اللہ منافق تھے۔پیارے نہایت ہی غلط ہے جس حالت میں وہ جناب رسالت مآب صلعم کے ساتھ ہوئے۔جانتے ہواس وقت جناب کی کیا حالت تھی اور ایسی ابتدائی حالت میں ساتھ دینا کس بہادر اور عاشق کا کا م ہے اور پھر غور کرو اور سوچو اس نے اپنی خلافت کے وقت کفر کے کون سے مسئلہ کی اشاعت کی۔اپنی قوت اور سطوت { FN 5534 } سینے کی بیماریوں کے لیے شفاء ہے۔