فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 190 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 190

الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ کا بہت پڑھنا جمیعت اور طمانینت کا موجب ہے۔میرا حال پوچھتے ہو میں کس مشرب کا ہوں سنو۔ابتدا تمیز سے اس وقت تک اصحاب الحدیث کی جماعت میں شامل ہوں وَاَرْجُوْمِنَ اللہِ اَنْ اَمُوْتَ وَ اُحْشَرُ فِیْ حُبِّـھِمْ اِنْشَائَ اللہُ تَعَالٰی۔{ FR 5530 }؂ وہ اہل حدیث جن کی وساطت سے تمام لوگ رسول اللہ صلعم کے اقوال اور افعال اور احوال پر واقف ہوئے۔وہ جنہوں نے قدریہ جہمیّہ شیعہ خوارج سے حفظ اور عدالت کو دیکھ کر روایت لینے میں بے جا تعجب نہیں کیا۔روایت میں جب صحت کی شروط دیکھی پھر اخذِ روایت میں ہٹ دھرمی نہیں کی اس حزب الٰہی کی عمدہ کتاب بخاری کی صحیح ہے۔شیعہ کے ایک ممتاز متکلم نے استقصاء میں اس کتاب اور اس کے مصنف پر قدح کرنے میں بڑے زور لگائے۔اِلاَّ اس خیرخواہِ اسلام پر جھوٹھ اور نسیان کا الزام نہیں لگا سکا اس کے کسی راوی پر اگرجرح کی ہے تو یہ ثابت نہیں کر سکا کہ بخاری ایسے راوی کی روایت شواہد میں نہیں لایا بلکہ اصل مسئلہ کے اثبات میں کیا ہے یا اس روایت کو بخاری بدوں معاضد چھوڑ گیا۔پھر اب جانتے ہو صراف کھوٹا کھرا پہچان سکتا ہے۔آپ نے تَشْیِیْدُالْمَطَاعِنْ کی چار جلدیں میرے مطالعہ کے لئے مرحمت فرمائیں۔آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔میں نے کتاب کو بغور دیکھا سچ کہتا ہوں کہ علاّمہ مصنف نے صرف نکتہ چینوں پر وقت صرف کیا اور کئی ضروری باتوں پر توجہ نہیں فرمائی۔مثلاً سوچو کہ قرآن کریم میں آدم علیہ السلام جیسے خلیفہ کو عَصٰی کا فاعل بنایا گیا اور حضرت خاتم الانبیا ءامام الاصفیاء صلعم کو اِسْتَغْفِرْ لِذَنْبِکَ کا مخاطب کیا گیا۔حضرت کلیم کے ایک اقرار کو اَ نَا مِنَ الضَّآلِّیْنَ کے الفاظ سے بیان کیا۔مومن ہمیشہ ان الفاظ کی توجیہات کرتے ہیں اور ان الفاظ کو سن کر انبیاء کی عصمت میں شک نہیں کرتے اور کوئی مسلمان وہم بھی نہیں کرسکتا کہ یہ حضرات خلافت عظمیٰ اور امامت کبریٰ کے قابل نہ تھے یا عصیان ‘ذنب ‘ضلالت کے سبب معزول ہو گئے۔موسیٰ اور خضر کا قصہّ قرآن میں موجود ہے۔وہاں دیکھو خضر بظاہر ملزم تھے اِلاَّ اصل اسباب پر جب اطلاع ہوئی تو معلوم ہوا کہ بالکل برَی ہیں۔پھر تم جانتے ہو کہ اجتہادی غلطیاں اجر کا { FN 5530 }؂ اور میںاللہ سے یہ امید کرتا ہوں کہ وہ میرا حشر ان لوگوں میں کرے گا جو ان کی محبت میں غرق ہیں۔انشاء اللہ تعالیٰ