فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 61
اس کے فروع میرے اور منصف محققوں کے نزدیک صحیح نہیں۔وہ یہ ہے۔احاد خبریں ایسے امور میں جن کی ضرورت عام ہو حنفیہ کے نزدیک مردود ہیں یا منسوخ۔یا مأوّل اور اس قاعدہ کی فروع یہ ہیں۔نَقْضُ الْوُضُوْءِ مَسِّ ذَکر سے ثابت نہیں۔رَفْعِ یَدَیْن رکوع اور رکوع سے اٹھتے وقت نہیں مانتے۔بسم اللہ کا جہراً پڑھنا تسلیم نہیں کرتے۔اپنے گھر میں تو خبراحاد سے انکار کرنے کے ایسے قواعد گھڑ لئے اور انہیں قواعد کو فراموش کر کے خبرِاحاد سے خود ہی استدلال بھی پکڑنے لگے۔قراءت خلف الامام بھی تو مَا يَعُمُّ الْبَلْوٰى{ FR 4961 } میںداخل تھی۔اُس کے بارے میں ایک خبرِواحد سے دلیل پکڑ کے وجوبِ سکوت اور کَرَاہَةِ قِرَاءَتْ بلکہ فسادِ صلوٰة مقتدی کے حق میں کیسے ثابت کر لیا۔پانچواں اعتراض عمران بن حصین سے روایت ہےأَنَّ النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ فَجَعَلَ رَجُلٌ يَقْرَأُ خَلْفَهٗ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلٰى فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ أَيُّكُمْ قَرَأَ أَوْ أَيُّكُمُ الْقَارِی۔ئُ فَقَالَ الرَّجُلُ أَنَا فَقَالَ قَدْ ظَنَنْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيْهَا۔{ FR 5038 } اس حدیث میں ِسرّی نمازوں میں ایک شخص نے قراءت پڑھی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کو منع فرمایا۔خَالَـجَنِیْھَا کے معنوں میں لکھا ہے خَالَـجَنِیْھَا اَیْ نَازَعَنِیْھَا۔{ FR 5039 } { FN 4961 } روزمرہ کے درپیش امور { FN 5038 } کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی تو ایک آدمی آپؐ کے پیچھے سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلٰى پڑھنے لگا۔جب آپؐ فارغ ہوئے تو فرمایا کہ تم میں سے کس نے پڑھا؟ یا (فرمایا:) تم میں سے پڑھنے والا کون تھا؟ اِس پر اُس آدمی نے عرض کیا کہ میں۔آپؐ نے فرمایا: مجھے گمان ہوا تھا کہ جیسے تم میں سے کوئی مجھے اس (قراءت) میں اُلجھا رہا ہے۔{ FN 5039 } اُس نے مجھ سے اسے چھینا۔