فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 97
بارہواں اعتراض قراءت فاتحہ یا مطلق قراءت خلف الامام پر وعید ثابت ہے۔پس احتیاط اس میں ہے کہ بالکل قراءت نہ پڑھیں۔جواب پہلا۔آپ نے تخریج مواعید کا بیان نہ کیا اوّل وہ بھی سن لو پھر جواب لو۔عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: مَنْ قَرَأَ خَلْفَ الْإِمَامِ فَقَدْ أَخْطَأَ الْفِطْرَةَ۔رواہ ابن أبي شیبة۔{ FR 5099 } وعن عمر من قرء خلف الامام مُلِیَٔ فُوْہُ حَـجَرًا أوْ فِيْ فَمِ الَّذِيْ يَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ حَجَرًا۔{ FR 5100 } عَنْ أَنَسٍ مَنْ قَرَأَ خَلْفَ الْإِمَامِ مُلِئَ فُوْهُ نَارًا۔{ FR 5101 } عَنْ سَعْدٍ … وَدِدْتُ أَنَّ الَّذِي يَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ فِيْ فِيْهِ جَـمْرَةٌ – أوْ حـجر۔{ FR 5102 } و عن عبد اللہ من قرء خلف الامام ملیٔ فوہ ترابًا۔{ FR 5103 } وروی عن زید بن ثابت وسعد من قرأ خلف الامام فلاصلاة لهُ۔{ FR 5104 } عَنْ إبْرَاهِيمَ مَنْ قَرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ مُلِئَ فُوْهُ نَتِنًا۔قیل یستحب ان یکسر { FN 5099 } حضرت علیؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: جس نے امام کے پیچھے قراءت کی وہ فطرت سے ہٹ گیا۔اسے ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔(مصنف ابن أبي شيبة، کتاب الصلوات، باب مَنْ كَرِهَ الْقِرَاءَةَ خَلْفَ الْإِمَامِ) { FN 5100 } اور حضرت عمرؓ سے روایت ہے کہ جس نے امام کے پیچھے قراءت کی اُس کا منہ پتھروں سے بھردیا گیا۔یا (فرمایا:) جو امام کے پیچھے قراءت کرتا ہے اُس کے منہ میں پتھر۔{ FN 5101 } حضرت انسؓ سے روایت ہے جس نے امام کے پیچھے قراءت کی اُس کا منہ آگ سے بھر دیا گیا۔{ FN 5102 } حضرت سعدؓ سے روایت ہے کہ میں چاہتا ہوں جو شخص امام کے پیچھے قراءت کرتا ہے اُس کے منہ میں آگ کا انگارہ پڑے یا (کہا:) پتھر پڑے۔{ FN 5103 } اور حضرت عبد اللہ (بن مسعودؓ) سے روایت ہے جس نے امام کے پیچھے پڑھا اُس کا منہ مٹی سے بھر دیا گیا۔{ FN 5104 } اور حضرت زید بن ثابتؓ اور حضرت سعدؓ سے روایت ہے کہ جس نے امام کے پیچھے پڑھا اُس کی نماز نہیں۔