فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 98 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 98

اسنانه۔قَالَ السَّرْخَسِيُّ: تَفْسُدُ صَلَاتُهٗ فِيْ قَوْلِ عِدَّةٍ مِّنَ الصَّحَا بَةِ۔{ FR 4678 }؂ یہ آپ کے وعید والے آثار ہیں۔اب جواب سنئے۔علیؓ کا اثر صحیح نہیں۔بخاری نے کہا۔اس کا راوی مختار معروف نہیں اس کا سماع عبد اللہ بن ابی لیلی سے معلوم نہیں ہوا۔عبد اللہ مجہول ہے۔(قال البخاری:) لَا يَحْتَجُّ أَهْلُ الْحَدِيْثِ بِمِثْلِهٖ۔{ FR 5105 }؂ وَقَالَ (الدَّارَقُطْنِيُّ): لَا يَصِحُّ إسْنَادُهٗ وَقَالَ ابْنُ حَبَّانَ … بَاطِلٌ۔{ FR 4679 }؂ علاوہ بریں یہ اثر فعل مرتضیٰ ؓ کے خلاف ہے جیسے عمرؓ اور عبد اللہ کا فتویٰ اوپر گزرا کہ اس کے خلاف ہے۔انس ؓ کا اثر موضوع اور باطل ہے وَاضِع اس کا مامون بن احمد کذّاب ہے۔حافظ نے درایہ میں بیان کیا۔سعد کا اثر امام بخاری نے کہا ہے۔اس کا راوی ابْنُ نَجَادٍ لَمْ يُعْرَفْ وَلَاسُمِّيَ۔{ FR 5106 }؂ عَلی قَارِی نے تذکرے میں موضوع کہا ہے۔زید کا اثر بھی موضوع ہے اور اس کا وَاضِع احمد بن علی بن سلیمان کذّاب ہے۔امام بخاری نے کہا ہے۔لَا يُعْرَفُ لِهَذَا الْإِسْنَادِ سَمَاعٌ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ وَلَا يَصِحُّ مِثْلُهٗ۔{ FR 5107 }؂ اور ابن عَبْد الْبِرّ نے کہا قَوْلُ زَيْدِ … مَنْ قَرَأَ خَلْفَ الْإِمَامِ فَصَلَاتُهٗ تَامَّةٌ وَلَا إِعَادَةَ عَلَيْهِ { FN 4678 } ؂ ابراہیم سے روایت ہے جس نے امام کے پیچھے قراءت کی، اُس کا منہ گندگی سے بھر گیا۔کہا گیا کہ پسند کیا جاتا تھا کہ اُس کے دانت توڑے جائیں۔سرخسی نے کہا: متعدد صحابہ کے قول کے مطابق اس کی نماز ناقص ہوجاتی ہے۔{ FN 5105 }؂ (امام بخاریؒ نے کہا:) اہل حدیث اس جیسی روایت کو حجت نہیں سمجھتے۔(القراءة خلف الإمام للبخاري، بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلْإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ) { FN 4679 } ؂ اور دارقطنی نے کہا: اس کی سندیں صحیح (کے درجہ پر) نہیں ہیں۔اور ابن حباّن نے کہا: (یہ روایت) باطل ہے۔(نصب الرأية، کتاب الصلاة، فصل فی القراءة) { FN 5106 }؂ ابن نجاد معروف نہیں ہے اور نہ ہی اس کا نام معلوم ہے۔(القراءة خلف الإمام للبخاري، بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلْإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ) { FN 5107 }؂ اس سند کے راویوں کا ایک دوسرے سے سماع کا علم نہیں۔اور اس جیسی روایت صحیح نہیں ہوتی۔(القراءة خلف الإمام للبخاري، بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلْإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ)