فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 87
AL يوم تأتي السَّمَاء يد خان مبین - سوره دخان پاره ۲۵ رکوع ۱۳ اس آیت کے شان نزول میں لکھا ہے۔مکے میں جب قحط نہایت سخت پڑا۔ابوسفیان آپ کے پاس آئے اور کہا۔تو صلہ رحمی کا حکم کرتا ہے اور دیکھ تیرے باعث ہم کیسے وبال میں ہیں۔تو دعا کر۔آپ نے دُعا کی۔جناب یوسف نے تو فرعونی خزانے سے غلہ دیا تھا۔آپ نے انہی خزانے سے دیا۔بخاری سورۂ دخان۔اسی واسطے سورہ یوسف کی ابتدا میں فرمایا۔لَقَدْ كَانَ فِي يُوسُفَ وَ اِخْوَيهِ ايات للسائلین۔اس سورہ شعرا اور سورۃ یوسف میں گویا رسول خدا بتاتے ہیں۔تم مجھے کیسے ہی تکالیف دو۔آخر تم مانند مخالفین انبیائے سلف کے اپنی جھوٹی ٹونی کی حمایت میں ہرگز کامیاب نہ ہو گئے۔کفار کی تباہی میرے سامنے ہو جائے گی۔اور چونکہ آپ موسی کے مثیل تھے۔اسی واسطے یہ کہا۔إِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولاً شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إلَى فِرْعَوْنَ رَسُولاً فَعَطَى فِرْعَوْنُ الرَّسُولَ فَأَخَذَ نَهُ أَخَذَ او بیلا سیپاره ۲۹ سوره مزمل - رکوع ۳ موسی کی پیشین گوئی سنو۔شاید یہ پیشین گوئی بشارات میں نہیں لکھی یا اس طرح نہ ہوگی۔فاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا۔دس ہزار قد وسیوں کے ساتھ آیا۔اور اسکے داہنے ہاتھ میں ایک آتشی شریعت اُن کے لیے تھی۔استثنا ۳۳ باب ۲۔تعجب ہے ماجوج کی عقل پر کیا پتھر پڑے۔اس بشارت میں دس ہزار قد و سیوں کا ذکر ہے۔اور بخاری مطبوعہ مصر و ہند میں لکھا ہو۔جب محمد رسول اللہ مکہ معظمہ میں تشریف لائے۔خاران کے پہاڑ سے ٹھیک دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ جلوہ گر ہوئے۔دیکھو یہ بشارت اے جس دن لاہ سے آسمان دھو آل صریح ۱۲ ہلے ہم نے بھیجا تمہاری طرف رسول بتانے والا تمہارا جیسے بھیجا فرعون کے پاس رسول پھر کہا نہ مانا فرعون نے رسول کا۔پس پکڑی ہم نے اس کو پکڑ وبال کی ۱۴