فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 86 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 86

۸۶ پھر عاد اور اُن کے دشمنوں کی ہلاکت کا تذکرہ ہے اور اس کے بعد یہ کہا۔به كَذَبُوهُ فَأَهْلَكْنَاهُمْ اِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَةً - پاره 19 - رکوع 11 - پھر شود کی نجات اور اُن کے دشمنوں کی ہلاکت کا ذکر کر کے کہا۔لانا GET TONGUETTE AN NANA في ذلك لاية - سيپاره ۱۹- رکوع ۱۲ - پھر لوط کا ذکر اور انکے مخالفوں کی تباہی کا حال بیان کر کے کہا۔ان في ذلك لآية - پھر شعیب کی کامیابی کا بیان ہے اور آخر کہا کہ شعیب کے مخالفت ہلاک ہوں گے۔ان في ذلك لآية۔یعنی البتہ اس میں ایک نشانی ہے۔قالُوا لَيْن لَم تَلتَه بلوط لتكونن من المخرجين - سياره ١٩ ركوع ١٣ ایسا ہی کفار نے جناب رسالتی آپ کو بھی کہا۔اور سزا پائی۔یہ باتیں روح الحق اور روح القدس سے کہیں۔قرآن نے آیات اور معجز ایسے بعد کہا۔نَزَّلَ بِهِ الرُّوحُ الأَمِينُ عَلَى قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنْذِرِينَ - پاره 19- كون یوسف کا تذکرہ بھی سورہ یوسف میں ہے۔اور کئی ایک آیات اور معجزات کا اشارہ ہے۔جیسے فرمایا۔لقد كان في يوسف واخويه ايات للسائلين - پاره ۱۲ - رکوع ۱۲ یوسف کے بھائیوں نے جس طرح کا سلوک کیا۔اسی طرح اہل مکہ نے آپ کو نکالا۔آخر شدید قحط میں آپ کے پاس دُعا کے لئے آئے۔اے پھر اُس کو جھٹلانے لگے توہم نے اُنکو کھپا دیا۔اس بات میں البتہ نشانی ہے یا at پس لے لیا اُن کو عذاب نے۔اس بات میں البتہ نشانی ہے۔" ہ بولے اگر نہ چھوڑے گا تو اسے ٹوٹ تو تو نکالا جار ے گا۔کے لیے اُترا ہے اُس کو فرشتہ معتبر تیرے دل پر کہ تو ہو ڈر سنانے والا " شے البتہ ہیں یوسف اور اس کے بھائیوں کے مذکور میں نشانیاں پوچھنے والوں کو ۱۳