فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 88 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 88

M کیسی صادق آئی۔دیکھو بخاری مطبوعہ مصر تصف ثانی صفحه ۵۰ و مطبوعہ ہند صفحه ۶۱۳ میں اپنے ایمان اور وجدان سے حلفاً کہتا ہوں۔مجھے یہ بشارت دہریوں کی واسطے بھی کا فی نظر آتی ہو۔اگر انصاف کریں۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اکثر ان انبیا کا ذکر کیا۔جنکو اہل مکہ جانتے تھے۔یہ اشارہ تھا، کہ گویا آپ مختلف شرائع انبیا کے جامع ہیں۔آپکی ذات گرامی کل آن عمدہ صفات کی جامع ہو۔جو فردا فردا اور انبیا میں پائی گئی ہیں۔آپ کا حکم ایسا تھا کہ اپنے ذاتی معاملات میں کسی سے بدلہ نہ لیا۔شجاعت ایسی کہ توحید الہی کے واسطے اپنے ملک اور قوم میں شرک کا نام نہ چھوڑا ور تمام دنیا کو ہوشیار اور خبر دار کر دیا۔عیسائیوں میں پروٹسٹنٹ نکلے۔پوپسے انکار ہوا۔آریہ بھی کہہ اُٹھے۔دید مشرک سے پاک اور شرک کا مخالف ہے۔آپ کا کرم ایسا کہ کسی سال کو بشرطیکہ اس کا سال خلاف تعلیم الہی نہ ہو بھی محروم نہ کیا۔آپ کی دُنیا سے بے رغبتی ایسی کہ مرنے کے دن تک با وجود اعلیٰ درجے کی حکومت سے آپ کی زرہ پچند دوا نہ ہو پر رہن تھی۔آپ کی شیرین کلامی ایسی کہ کسی دشمن کے حق میں ثقیل لفظ نہ بولے۔کسی ہادی اور مصلح پر نکتہ چینی نہ کی۔آپ صاحب تدبیر ایسے کہ آپ کی تدابیر صائب کے سامنے تمام دنیا کے اعداء کی تدبیری بیکار ہوگئیں۔آپ کا ولو با چال چلن ایسا جس میں بلحاظ احادیث صحیحہ اور تاریخ کے حروف گیری کا موقع نہیں۔آپکا تو کل ایسا کہ تمام اہل مکہ مخالف ہیں اور پھر ذرا استان و ملال نہیں کسی مسیح حدیث میں نہیں اور یقیناً نہیں کہ اتنی بڑی عداوت عرب اور حالت غربت میں آپ اکثر محزون رہتے ہوں۔ابو بکرہ یار غار آپکے ہجرت فرمانے سے گھبرائے۔تو آپ فرماتے ہیں۔تحزن ان الله معنا - سوره هود - سیپاره ۱۰ - رکوع ۱۲ لے ڈرو نہیں اللہ ہمارے ساتھ ہے۔۱۲