فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 76 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 76

رکھتے تھے۔64 آپ نے حج میں خطبہ الیکچر، پڑھا۔یہ آپ کے آخری حج میں واقع ہوا۔پھر اس بڑے لمبے چوڑے خطبے کو جب رسالتمآب تمام کر چکے تو ابو شاہ نام صحابی نے عرض کیا۔یارسول اللہ یہ خطبہ مجھے لکھوا دیجئے۔آپ نے حکم دیا۔ابوشاہ کو کھدو - غرض اس طرح کی کئی ایک شہادتیں ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے۔حدیثیں مختلف طور پرکھی جاتی تھیں۔علاوہ بریں قومی روایات ہو با وجود اختلاف شدید مشترک ہوں اور ایک دوسرے کی تصدیق قومی ثابت کرتی ہوں۔اناجیل کے ثبوتوں سے صحیح احادیث کا ثبوت کچھ کہ نہیں۔یاد رہے بخاری اور مسلم کی بڑائی صرف بخاری اور مسلم کہنے سے نہیں ہوئی۔بلکہ ان کی کتابیں کتب سابقہ ور کتب زمانہ بخاری اور مسلم او کتب محققین بعد زمانہ بخاری اورمسلم کے ساتھ موازنہ کی گئیں۔اور بعد موازنہ ان کو تر جیح حاصل ہوئی۔کسی حدیث کا اعتبار صرف ایک راوی کے کہنے سے نہیں ہوتا۔بلکہ مختلف روات کی روایت سے کہ کوئی ان میں سے عراق کا رہنے والا اور کوئی شام کا اور کوئی جاز کا۔کوئی مصرکا اور با وجود اسقدر دوری کے اُن کے الفاظ متقارب اور انکی حدیثیں متحد المعنیٰ ہوں تعجب آتا ہے۔دو صحیح مدیتیں ایک درجہ کی باہم متخلف اور متعارض وہ نہیں ہوئیں۔اور یہ کیسا بڑا ثبوت علم حدیث کی سچائی کا ہے۔پادری اس بات پر ہمیشہ زور دیتے ہیں۔حدیث دیکھنے والوں کی تحریر نہیں۔صاحبو - تاریخی امور کا ثبوت اسپر موقوف نہیں کہ دیکھنے والا کسی تحریر میں اپنا معائینہ بیان کرے۔بلکہ معتبر کے رو برو بیان کرنا کافی ہے۔اگر کسی تحریرمیں اس کا اقرار پایا گیا تو تحریر بھی جب ہی قابل اعتبا ہو سکتی ہو کہ کسی کے روبرو اسکا بانی اقرار موجود ہو کہ یہ میری تحریر ہے۔پھر وہ تحریر بھی ہر طرح سے محفوظ رہے۔بہر حال زبانی اقرار پر مار رہا۔فقط تحریر سے کام نہ چلا۔اور حدیثوں میں دونوں طرح کا ثبوت موجود ہے۔تحریری بھی اور زبانی بھی۔اسی واسطے محدثین صرف کتابوں کو دیکھ کر روایت کرنے والے کا اعتبار نہ کرتے تھے۔