فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 75 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 75

مرقس بات پر رکھ کر دیکھے اگر کہے کہ اسوقت معجزات کی ضرورت نہیں تو ہم کہتے ہیں۔ایسی ہی محمد صاحب کے وقت بھی ضرورت نہ تھی۔دوم۔اگر ان کے معنے جو الآیات میں ہو۔محل کے لیئے جا دیں تو یہ معنے ہونگے ہمیں کل معجزات بھیجنے سے کوئی امر مانع نہیں ہوا۔مگر اگلوں کا اُن معجزات کو جھٹلا نا یعنی مستقاً معجزات ہماری قدرت میں ہیں وہ سب کے سب ظاہر نہیں کیے گئے۔پادری صاحبان ! اس سے بالکلیہ معجزے کی نفی نہیں نکلی۔اسکی مثال ایسی سمجھو۔ایسی کوئی کہے میں نے کل مطالب بیان نہیں کئے۔اس کلام سے کوئی بھی سمجھ سکتا ہے۔کہ قائل نے کوئی مطلب بھی بیان نہیں کیا۔سوم دلیل انکار معجزات یا آیات نبوت پر۔آیات نبوت یا معجزات صرف احادیث میں ہیں اور احادیث دوسری صدی کے بعد لکھے گئے۔قابل اعتبار نہیں ہو سکتے۔جواب - آیات صرف حدیث میں نہیں بلکہ وہ آجتک قانون قدرت میں موجود ہیں۔قرآن میں انکا بیان مفصل آچکا۔اور اگر حدیث میں ہی ہوتیں تو حد ہیں جناب رسالتی آب کے وقت لکھی جاتی تھیں۔اس جواب میں میں نے تین دعوے کئے ہیں۔اول تیسرے بچوہے کا ثبوت سنو۔بخاری جلد ۲ صفحہ ۱۴۵ میں ہو۔اور صفحہ ۱۶۵ میں۔ایک شخص نے جناب کی مرتضی رسالت آب کے خلیفہ سے پوچھا۔آپکے پاس قرآن کے سوا کچھ اور وی کی باتیں بھی ہیں۔تو آپنے فرمایا۔ہاں میرے پاس اس کا غذ میں چند احکام رسول کریم کے لکھوائے ہوئے جن میں جرمانوں کے حکم اور قیدی کے چھوڑانے کے متعلق چند حکم وغیرہ ہیں۔-۲- کتاب الزکوۃ بخاری میں دیکھے جلد اصفحہ ۱۸۹ ۱۹۰۰- ابو بکر رسالتخاب کے جانشین نے جوز کوتہ کے احکام لکھا ہے وہ سب رسول خدا کے لکھوائے ہوئے یا بتائے ہوئے تھے۔۳۔بخاری جلد ا صفحہ ۲۱ میں ہے۔عبداللہ صحابی) بن عمر (خلیفہ ہمیشہ دیشیوں کو لکھ