فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 77
bn ba الا معجزة آپ کے دلائل نبوت اور علاماتت رسالت جن کو قرآن کریم نے آیات اور بر مان کر کے تعبیر فرمایا ہے۔قانون قدرت میں مشہود اور قرآن میں موجود ہیں۔اگر ان دلائل کو معجزہ کہیں جس کے معنی ہیں غیر کو عاجزہ کر دینے والا یا خرق عادت کہیں تو بالکل بجا ہے۔اقل آنحضرت صلعم کے وقت دنیا کی تاریخ پر نظر کرو۔جس ملک میں آپ پیدا ہوئے وہ کیسا تھا۔عامہ عرب کسی مذہب کے پابند نہیں۔کوئی کتاب نہیں رکھتے۔کوئی پتھروں کی پوجا کرتا ہے۔کوئی درختوں کی۔کوئی سیاروں کی۔کوئی بھوت اور پریت کی جزا اور سزا کے منکر ہیں۔سیاست و تمدن کو نہیں جانتے۔چوری ، قمار بازی، باہمی جنگ اور بغض اور عناد - جہالت۔فخر اور کبر انکے صفات ہیں۔اور شاعریت پر کمال کا مدار ہے۔عرب کی مشرق میں ایک طرف ہندوستان ہو جس میں تو ان کی ایسی چھائی ہے کہ مرد کی شرم گاہ سے لنگ کہتے ہیں اور عورت کی شرمگاہ جسے بھگ کہتے ہیں۔بے طعن پوچی جاتی ہے۔منتر ، فال وغیرہ توہمات کا سمندر موج مار رہا ہے۔دوسری طرف ایران ہے۔جس میں آگ کی پرستش ستیاروں کی معبودیت - نور و ظلمت دو خداؤں کی سلطنت پر اعتقاد ہو۔شمال و مغرب اور عین وسط میں کچھ عیسائی پوپ کے بندے رومن کیتھولک وغیرہ پروٹسٹنٹ مذہب کے علاوہ راس مذہب کے بانی لوتھر ہے، مریم اور سیح کے یو جاری۔اور ان میں پوپ صاحب بہشت بانٹنے والے اور تمام عیسائی خاکسار بندے ابن مریم کو خدا مانے والے چین کے حق میں قرآن فرماتا ہو۔پاندا بعضنا بعضا از بابا من دُونِ الله اور کچھ یہود لعل اور مولک اور عمارات کے پوجاری۔اور ایسے سخت بے ایمان جو عرب کے سخت ثبت پرستوں کو کہتے ہیں۔المُتَرَ إِلَى اللَّذِينَ أوتُوا نَصِيباً من الكتب يُؤْمِنُونَ بِالحَبْتِ وَالطَّاغُوتِ وَيَقُولُونَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا هُوَ لَاءِ أَهْدَى مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا سَبِيلاً - سیپاره ۵ - رکوع ۵ - ے نہ پکڑ میں بعض ہمارے بعض کو رب سوائے اللہ کے ہلا سے تو نے نہ دیکھے جن کو ملا ہے کچھ حصہ کتابکا مانتے ہیں بنوں اور شیطان کو اور کہتے ہیں کافروں کو یہ زیادہ پائے ہیں مسلمانوں سے راہ ۱۲۲