فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 387
اس لیئے ایک میزان کی ضرورت پڑی نگری میزان دکانداروں کی ترازو سے یا ریلوے والوں کی ماپ تول سے نرالی ہے۔دیکھو اسیموئیل ۲ باب ۳ - یہ ترانہ و خدا کے عدل اور قدوسیت کی ترازو ہے۔نیک اعمال کی زیادتی میں ایمان کی قوت ظاہر ہے۔اسلیے وہ ایمان بڑے فضل کا لینے والا ہوا۔اور مساوات اور کسی کی صورت میں قرآن کی اس امید بھری آیت ہے۔وَأَخَرُونَ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ خَلَطَوا عَمَلًا صَا لِحَاوَ أَخَرَ سَبَا عَسَى اللَّهُ أَنْ عَليهِمْ إِنّ الله غفو غَفُورٌ رَحِیمه سیپاره - سوره توبه - رکوع ۱۳ ۱۱- امید ہے کہ خداوندی رحم اس کے منصب پر سبقت لیجا و سے اور اس کا فضل بچالے۔الا یہی فضل کبھی کسی شفیع کو اپنے پہنچنے کےلئے ذریعہ بنالیتا ہے۔اہل اسلام میں بے اذن شفاعت ثابت نہیں۔اور جب اذن سے شفاعت ہوئی۔تو وہ شفاعت حقیقت میں فضل ہو گیا۔یہی فصل نجات کا باعث ہے۔اور اس بالاذن شفاعت کا ثبوت جیسے خدا کے رحم اور فضل نے گنہ گاہ کے بچانے کے لئے تشریک دی۔قرآن میں یہ ہے۔دورود وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ جَارُوكَ فَاسْتَغْفِرُ اللهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُ هُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللهَ تَوّابات جیما - سیپاره ۵ - سوره نساو - رکوع و - یا در کھو۔جب نیک استعمال کثرت سے نہیں ہوتے اور ایمانی قوت کا قومی ہونا ثابت نہیں ہوتا۔اُسوقت بڑے فضل کو یہ چھوٹا سا ایمان نہیں کھینچ سکتا و فصل لینے کے سبب میں اور بہنے لگوں نے ان انا انا گناہ ایا ایک کام نیک ار دوسرا بد شاید اللہ معاف کرے کہ بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔سلے اور ان لوگوں نے جس وقت اپنا بڑا کیا تھا اگر آتے تیرے پاس پھر اللہ سے بخشواتے اور بخشوا تا اُن کو رسول تو اللہ کو پاتے معاف کرنے والا مہربان ۱۲۔اعمال - ایمان - گناہ۔تو اب فضل۔ان سب اصطلاحات کی نسبت حکیمانہ طور پر ہمارا خیال کچھ کیوں نہ ہو۔اور عیسائی مفہوم اور مذاق سے بالکل الگ کیوں نہ ہو لیکن بہر حال ان اصطلاحات کا اطلاق مخاطبین ہی کے مذاق کے موافق ہم کیئے جاتے ہیں۔کیونکہ ہماری اس کتاب کا موضوع و منشاء بھی یہی ہے ۱۲