فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 388
کمزوری ہوتی ہے۔اس لئے باری تعالی کار رقم اور کرم چھوٹے سے ایمان کے ساتھ کی شفیع کی شفاعت اور دائیوں کی دوعا کو ملا دیتا ہو اور اسی کمزور ایمان کو اس ذریعے سے قوت دے کر فضل کے لائق بنا دیتا ہے۔بلکہ صرف ایمان ہی ابدی سزا سے بچانے کے لیئے اس فصل کو لے لیتا ہو جسکے ساتھ انسان دوزخ کی ابدی سزا سے بیچ جہاد ہے۔پادری صاحب پولوس بھی کیا کہتا ہو۔پھر اگر فضل سے ہو تو اعمال سے نہیں۔نہیں تو فضل فضل نہ رہیگا۔اور اگر اعمال سے ہو تو پھر فضل کچھ نہیں۔نہیں تو عمل عمل نہ رہیگا۔نامہ رومیان 1 باب - پادری صاحبان۔آپ کو عہد جدید میں دکھلا دیا کہ آپکا یہ سوال کہ نجات اعمال سے ہے یا شفاعت سے کیسا کمزور ہے۔نجات نہ اعمال سے ہے نہ شفاعت سے۔نجات صرف خدا کے فضل سے ہے۔ہاں۔اتنی بات رہی کہ خدا وندی فضل کو کون چیز جذب کرتی ہو۔اور کس کے ذریعے ہم محض فضل سے نجات پاسکتے ہیں۔تو اس کا جواب یہی ہے کہ ایمان فضل ربانی کو جذب کرتا ہے۔قرآن فرماتا ہو۔فَأَمَا الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَاعْتَصَمُوا بِهِ فَسَيَدُ خِلْهُمْ فِي رَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ فضل - سیپاره ۷ - سورۂ نساء - رکوع ۲۴ اس آیت سے صاف و انج ہوتا ہے کہ جو لوگ ایمان لائے۔اُن کو خدا وند کریم فضل و رمت میں داخل کریگا۔عہد جدید بھی یہی کہتا ہے۔دیکھو نامہ رومیان ۲ باب ۲۰ کیو نکہ ہنے یہ نتیجہ نکالا ہو کہ آدمی ایمان ہی سو بے اعمال شریعت کے راستباز ٹھہرتا ہے۔اور نامه رو میان ۴ باب ۳ فرشتہ کیا کہتا ہو۔یہی کہ ابر نام خدا پر ایمان لایا۔اور یہ اُسکے لئے راستبازی کیا گیا۔اہ سو جو یقین لائے اللہ پر اور اسکو مضبوط پکڑا۔تو انکو داخل کہ بیگی اپنی مہر میں اور فضل میں ۱۴