فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 325
۳۲۵ اگر عیسائیوں کے اعتقاد پہ جاویں جنکے نزدیک خود ہارون جیسے کاہن مقدس اُس سخت بدعت کی اشاعت کے بانی ہوئے۔تو اب ایسی قوم ہاں ایسی خوش اعتقاد متلون مزاج گروہ جو حضرت موسی کو اس قسم کے بدیہی انداز سے اور صاف صاف رائے لگانے پر اند مجبور کرے کیا اچھنبے کی بات ہے۔اگر حضرت موسی انہیں کہیں کہ تم میرے پیچھے بگڑ جاؤ گے۔اور تراشے ہوئے بتوں کی پرستش کرو گے۔اور اگر اسے ترغیب و ترہیب ہی خیال کیا جائے تو بھی بات واضح ہے۔اب لیجئے۔حضرت مسیح کی سنیئے۔آپ فرماتے ہیں۔قوم پر قوم اور بادشاہت پر بادشاہت پڑھے گی ہے گی۔ئی۔کالی اور وبائیں پڑینگی۔اور جگہ جگہ زلزلے واقع ہوں گے۔اپنے شاگردوں کو فرمایا۔جوکوئی اپنی جان بچانی چاہیے اُسے کھوئیگا۔اور جو کوئی میرے لئے اپنی جان کھوئے اُسے پاوے گا۔آپ نے پطرس کو فرمایا دو ہی پطرس نہ جو رسول اور صاحب کتاب ہوا۔اور سب سے بڑی دلیری اور جرات سے استاد کو مون کہکر تین بار انکار کیا) یکیں آسمان کی بادشاہت کی کنجیاں تجھے دونگا۔اور جو توزمین پر بند کریگا۔آسمان پر بھی بند ہوگا۔اور جو زمین پر کھولے آسمان پر بھی کھلا ہو گا۔اور شاگردوں سے فرمایا کہ میرا سماله پہلی پیشین گوئی (اگر اسے پیشینگوئی کرسکیں، صاف قانونِ قدرت کے استمراری واقعات کا استنباط ہونے کی شہادت دیتی ہے۔کیونکہ قوم پر قوم اور بادشاست پر بادشاہت کا پڑھنا اور کال اور زلزلے اور وہا کا واقع ہونا نیچر کی ایسی عادات میں سے ہے کہ اسکی نسبت کسی ایک کا بلا تعین وقت اور گول مول پیشین گوئی کرنا کبھی کبھی غلط نہیں جانا جا سکتا۔دوسری اور تیسری پیشین گوئی کی بنا محض ترغیب و ترہیب پر ہے۔اس قسم کی متی ۲۴ باب سے مئی ۱۶ باب ۲۵ - ۲۵۳ مئی ۶ ا باب ۱۹ - ۲ه ستی ۲۰ باب ۲۳ -