فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 324
کی سی طبیعت انکی تعاون مزاجی انکی قدیم رفتار کے کار نامے موسی کی لوح حافظ سے مٹ نہیں گئے تھے۔انکی قومی تاریخ نے کبھی موسیٰ کے اضطراب طبیع کو اطمینان سے مبدل نہیں تھا۔انکے روزمرہ کے حالات و قرائن خاص کشش کے ساتھ موسی کی طبیعت کو ایسے بدیہی اور پیش پا افتادہ نتائج کے نکالنے پر مائل کرتی تھی۔موسیٰ سے قبل کے حالات چھوڑ دو جو ایک لمحہ بھر کیلئے موسی کی عالمانہ یاداشت سے فراموش نہیں ہو سکتے تھے۔خود موسٹی کے وجود کو اُن لوگوں کے درمیان اور انکی پر زور گرم تعلیم ہی کو ملاحظہ کر لو کہ کسی قدر اور کب تک اُسکے اثر کی جڑ اُنکی زمین سینے میں مضبوط رہی۔۔۔کیسے بڑے بڑے کرشمے اور معجزات اُنکے ہاتھ سے دیکھے۔فرعون اور اسکے پیروؤں کے مقابل میں کیا کچھ کرامات و کمالات مشاہدہ نہ کیئے۔پھر بھی یہ بنی اسرائیل خدا کی برگزیدہ قوم۔ہاں اُسکے اکلوتے بیٹے موسی و ہارون جیسے خیر خواہوں سے سمندر سے پار ہوتے ہی کیسی ناراض بلکہ صف آرا ہوئی۔خروج ۱۶ - باب ۲۔من جیسی نعمت کے کھاتے ہوئے مچھلی اور پیاز اور گندنا کے خواستگار ہوئے۔من کے جمع کرنے سے روکے گئے تھے۔پھر بھی جمع کرنے سے نہ ملے۔بلکہ خدا فرماتا ہے کہ دس مرتبے یہ لوگ مجھے آزماتے اور میری آواز پر کان نہ دھرنے اور وسیع فرماتے ہیں۔جس دن سے میں نے تم کو جانا تم خداوند سے سر کشی کرتے ہوئے صرف پالین روز کے وعدے پر موسٹی پہاڑ پر گئے۔اور ہارون جیسے مقدس۔خلیفہ وقت۔نبی۔وہی ہارون جس کی کہانت کے لئے موسیٰ اسے پہاڑ پر تجویز ہو رہی تھی۔پس کس قدر تعجب کی بات ہے کہ زبر دست نبی کی زندگی اور فقط چند روزہ غیر حاضری کا خیال دل میں موجود اور ہارون جیسا ناصح مشفق نائب سر پر کھڑا۔اسپر جھٹ بچھڑو بنا اسی کی خدائی کے قائل ہو گئے۔اور بھٹو کی پوجاشہ ورع کر دی ہے۔اه خروج ۱۶ پاپ نگفتی ۳ یا سی، ۰۲ ۲۳ استار و باب ۲۰ هد استثنار و باب ۱۶