فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 326 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 326

ppy باتیں منصفانہ تھیوری (قیاس سے بڑھ کر کچھ رتبہ نہیں رکھتیں۔پطرس کے باکس یا ڈکس کی کوئی خصوصیت نہیں ہو سکتی غیر فقد ر ضعیف ریفارمر ایسے ہی خیالی ٹوٹکوں چٹکلوں سے تو دل لبھایا کرتے ہیں۔اور کس کس کو ذرہ ذرہ سی بات پر آسمان و زمین کی چابیاں نہیں بخشا کرتے۔ایسی باتوں کے لئے فطرتی خارجی شہادت کیا ہو سکتی ہے۔یہ حساب دوستان در دل کا سا معاملہ ہوتا ہے۔چوتھی بات کچھ محتاج بیان نہیں۔یہود کی سخت ہیبت ناک عداوت نے اُس حلیم مسکین انسان کو کمال بے چین اور بیدل کر رکھا تھا۔جہان کے لالے پڑے ہوتے تھے۔زندگی کا رشتہ ٹوٹتا نظر آتا تھا۔چاروں طرف دشمن ہی دشمن دکھائی دیتے تھے صرف دو چار ٹوٹے پھوٹے انیس و جلیس گرد و پیش بیٹھے معلوم ہوتے تھے۔بیشک آنے والی زبر دست مصیبت کا مقابلہ اور اپنا اور اپنے حامیوں کا ضعف عادتا اس b قسم کی پاس کے کلمات منہ سے نکالنے پر ایک بے بس انسان کو مجبور کر دیتا ہو۔اب ہم نبی عرب کی پیشین گوئیوں کے جانچنے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔لیکن آغاز مطلب سے پیشتر خدا کی برگنه با قوم بنی اسرائیل کا ہو وسط ایشیا کے انبیا کا میدان مشتق رہے ہیں۔اور جنہیں مسلمین دیگر اقوام وطل کی تہذیب لکھی ومالی کی خوشخط سرمشق کہتے ہیں۔تھوڑا سا اجمالی حال لکھتے ہیں۔اور انصاف کی عینک لگا کر دیکھتے ہیں کہ انہوں نے اپنے شفیق ہادیوں کی تعلیم سے کسقدر بہرہ اٹھایا اور دنیا کی اور قوموں کیلئے نمونہ بنے کا کس قدر استحقاق حاصل کیا۔اور کیونکر ایسی قوم کے آگے دوسری قومیں زانوئے تلمذ تہ کر سکتی تھیں۔پھر قوم عرب کی ملکی تمدنی منزلی اخلاقی حالت کا اجمالی نقشہ کھینچتے ہیں کہ ہادی عرب و عجم کی بعثت سے قبل وہ کیسی تھی اور اس تاریخی الہامی سلسلے کی تحریک سے ہماری غرض یہ ہے کہ اس نیر جہاں افروز کی پیر حلال کرنوں سے نور حاصل کرنے کیلئے شکوک و او پام کے گرد و غبا اسے مطلع صاف کر دیا جاوے۔