فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 306 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 306

عدالت کے معنی ہیں افراط و تفریطہ کو چھوڑ کر میانہ روی اختیار کرنا الہامی اصطلاح میں۔ایسے احکام و اصول بیان کرنے جو عملا تو اسے انسانی اور اس کی فطرت کے مقتضائے حال کے موافق ہوں۔ایسے قیاس اور فقیرانہ خیالات نہ ہوں جن کو عملی دنیا نے کبھی ایک لمحہ بھر کے لئے استعمال میں لانے کی کوشش نہیں کی۔اور اگر ان کا دنیا میں معمول ہونا فرض کیا جائے تو عالم کا کیا حال ہو۔یقینا شیرازہ انتظام عالم درہم برہم ہو جائے۔یہ بناء علے ہذا۔لیکن بڑی جرأت سے کہتا ہوں کہ جو اعتدال و عدل اور جو میانہ روی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت یعنی احکام قرآنی میں ملحوظ ہوئی ہے۔کسی دوسری شریعت میں نہیں۔اس خطبے میں میرا یہ منشار نہیں کہ دوسرے مذاہب کے اصول سے اصول اسلام کا مقابلہ کروں۔امید ہے کہ ہماری اس کتاب کے متفرق مقامات میں ناظرین اس باب میں اطمینان خاطر کا سامان پائیں گے۔لیکن ہر حال اتنا کہنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ نصاری کی اس بارے میں نظر کدھر جاتی ہے۔عیسائیوں کی سادہ لوحی یا تجاہل دیکھ کر ہمیں سخت افسوس آتا ہو۔جب حضرت مسیح کی ایک دو صوفیانہ متون کو۔یا چند ایک فقیرانہ خیالی تمثیلوں کو قرآن جیسی متین کتاب کے جلال و جمال آمیز اصول کے مقابل پیش کرتے ہیں۔بیشک ایسی باتیں کانوں کو بہت اچھی لگتی ہیں۔اور بادی المحال میں ایک خیالی شعر کے مانند سامعین انپر آہا ہا اور واہ واہ کا قہقہ لگاتے ہیں۔مگر اتنا تو بتاؤ۔اور خدا کے لئے انصاف سے کہو کہ یہ تکیں کبھی عمل میں بھی آئیں۔یا ان کو عمل میں لانے کی کبھی کسی زمانے میں کوشش کی گئی۔حضرت مسیح ایک مفلوک الحال آدمی تھے استعلا کی آرزو تو نہایت تھی۔مگر اس قدر سامان نہ ملا۔بنی اسرائیل جیسی متکبر بد دماغ قوم کے مقابل میں اگر ایسے احکام کی تعلیم نہ دیتے لہ جو کوئی تیرے ایک گال پر طمانچہ مارے دوسرا اس کے آگے کر دے۔اور اگر تیرے پاس کوچ کے کھانے کے لئے ہے۔تو کل کی فکر نہ کرو۔وغیرہ وغیرہ۔