فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 307 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 307

تو کیا کہتے۔(۵) تیرا و اینا ہاتھ تجھے ہیبت ناک کام دکھائے گا۔ان ہیبت ناک کاموں سے انکار ہو تو بنی قریظہ کی روحوں سے پوچھ لو۔بنو نضیر کے بقایا سے دریافت کر لو۔یہ وہی یہودی ہیں جنہوں نے بقول آپکے مسیے کو مارڈالا۔اور آخر اس فارقلیط احمد محمد کے بہیبت ناک ہاتھ سے سزا یاب ہوئے۔کسری اور قیصر کے ناپاک آثار پاک زمین میں تلاش کرو۔حضرت مسیح کی بابت زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں بات صاف ہو۔آپ کے حسن جمال کی نسبت اندرو نہ بائبل صفحہ ۱۷۶ دیکھ لو۔کر ایسٹٹ ظاہر خوبی سے معرمی تھی جیسے کرشن دیو کالے رنگ کے حقیر تھے۔پہلوانی اور تلوار باندھنا۔گرفتاری۔اسیری تباہی گریز - اختفا- کافی شہادتیں ہیں۔عیسائی لوگ بیدار ہو جاویں کہ وہ زمانہ نہیں رہا کہ ان امور کی تاویل اور تحریف سننے کے قابل سمجھی جاوے۔اعتقاد سے اور سادہ اپنی سے ایل کی صاف صاف باتوں کو ایر پھیر کر کے خوش ہو جاؤ۔مگر یاد رکھو کہ حقیقۃ الامر کو کوئی بدل نہیں سکتا۔علوم حکمیہ کی اشاعت نے سب قلعی انجیلی تعلیم کی کھول دی ہے۔یورپ کا حال ملاحظہ کر لو۔بشارات انجيليه يُوحنا باب ۲۰ جب یہودیوں نے یروشلم سے کاہنوں اور لا دیوں کو بھیجا کہ یوجنا سے پوچھیں۔کہ تو کون ہے۔اُس نے اقرار کیا۔اور انکار نہ کیا۔بلکہ اقرار کیا کہ میں مسیح نہیں ہوں تب انہوں نے اُس سے پوچھا تو اور کون ہے۔کیا تو ایلیاس ہے۔اُس نے کہا میں وہ نہیں ہوں۔انہوں نے کہا آیا تو وہ نبی لی ہے۔یاد ہے کہ نبی پر ایران استار با لامحالہ دیا اور اسلام اللہ کی درد سے بخوبی نایت کر رہے ہیں۔