فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 305 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 305

۳۰۵ چلا آتا تھا۔سامنے سے اُسے دیکھ کر الہام الہی نے آپ کو آگاہ کردیا۔اور آپ نے حاضرین فرمایا کہ شخص غدر کے ارادے پر آتا ہے مگر خدای تعالی اسکے اور اسکی مراد کے درمیان سائل ہے۔یعنی ناکامیاب ہو گیا- اسید بن حضہ پر صحابی نے آگے بڑھکر اُسکے کپڑے ٹٹولے جھٹ خنجر اُن میں سے گر پڑا۔اسپر بھی رحیم رسول نے ارشاد فرمایا کہ اسکو معاف کر دو اور جانے دو۔شرح زرقانی بر مواہب لدنیہ جز وثانی صفحه ۲۱۳ - (۲) ثمامہ بن اثال - ایک رئیس عربنے جس پر آنحضرت کی کمال عنایات مبذول ہوئی تھی۔کفار مکہ کی سخت عداوت اور ایڈا کوجو وہ آنحضرت کو پہنچاتے تھے۔دیکھ کر یمامہ سے غلے کا مکے میں جانا بند کر دیا۔اسیہ کفار مکہ نے آپکو لکھا کہ آپ تو صلہ رحم کا وعظ فرماتے ہیں اور ہماری یہ گت ہو رہی ہے کہ بھو کے مررہے ہیں۔آنحضرت نے شمامہ کو لکھا کہ کی راہ چھوڑ دے۔شرح مواہب جز و ثانی صفحہ ۱۵۷ الہ اللہ اس سے بڑھ کر رحم وحلم کیا ہوسکتا ہے۔کہ وطن سے نکالنے والوں ، ستون کے پیاسوں کے ساتھ یہ سلوک مرعی ہوتا ہے۔صدق الله عز وجل وَمَا أَرْسَلْنَاكَ اِلاَرَحْمَة لِلعالَمين - ع جانا فدائے تو کہ عجب کار میکنی۔(۳) ابتدائے حال میں لگنے سے نقل کر کے آپ طائف تشریف لے گئے۔ایک ینہ بھر وہاں قیام کیا اور اشراف قبیلہ ثقیف کو اللہ کی طرف بلایا۔اُن بدبختوں نے شہر کے سفلوں اور قلاشوں کو آپ کے پیچھے لگا دیا۔اُن کمینوں نے گالیاں دینی اور پتھر برسانے شروع کئے۔اور جب آپ چلتے ٹھٹھے مارتے۔اس طرح کی سخت اینڈا اٹھا کر آپ اُس شہر سے چلدیئے۔پتھر سے پتھر دل کا کلیجہ بھی شنکر پانی ہو جائے۔اگر ان تمام مصائب کا بیان لکھا جائے۔اس وحی الہی نے جو ہمیشہ انبیاء کی رفیق باطن رہتی ہے۔آواز دی کہ اگر تو چاہے تو اس شہر کو زیر وزبر کر دیا جائے۔آپ نے فرمایا۔بل اَرجُوا أَن يُخْرِجَ اللهُ تَعَالَى مِنْ اَصْلَا بِهِمْ مَنْ يَعْبُدُ اللهَ وَحْدَهُ لا نت نري اے نہیں مجھے امید ہے کہ خدا ان سے ایسے لوگ پیدا کرے گا۔جو اُسی اکیلے خدا کی عبادت کریں گے۔