فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 250
۲۵۰ میں کہا۔اسے بیت لحم مارا تا اگر یہ تو یہوداہ کے ہزاروں میں چھوٹا ہے۔لاکن میرے لئے ایک شخص جو بنی اسرائیل میں سلطنت کریگا۔اور اسکا ہونا بہت قدیم زمانے ہو تو ہو چکا ہے۔تجھ میں سے نکالیگا۔میکاہ - ۵ باب ۲ - متی نے ۲ باب ۶۳ میں کہا۔یہ بشارت مسیح کے حق میں ہے۔حالانکہ اقل تو مسیح نے بنی اسرائیل پر سلطنت ہی نہیں کی یسلطنت حضرت کو کہاں نصیب ہوتی یبنی اسرائیل سے وہ مصائب اُٹھائے جنکے سننے سے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں۔یہود نے۔۔طمانچے مارے ہاتھ پاؤں چھیدے کانٹوں کا تاج پہنایا۔لکڑی پر باندھا۔خود حضرت ایسے گھبرائے کہ ایلی ایلی لما سبقتنی کہہ اٹھے۔دوم مستی کی عبارت میکاہ کی عبارت سے موافق نہیں۔بھارت کہتے ہیں میکاہ کی عبارت محرف ہے۔بھلا عیسائی مفسر کہہ سکتا ہو کہ مستی نے غلط ترجمہ کیا۔یادر ہے۔یہاں روحانی سلطنت مراد نہیں ہوسکتی۔کیونکہ مسیح کی روحانی سلطنت کو بنی اسرائیل سے خصوصیت نہیں مسیح کی رومانی بادشاہت عام ہے۔سوم یواقیم نے جب دار ورخ کا لکھا ہوا۔ارمیا کا صحیفہ جلا دیا۔تو خدا نے فرمایا لو اقسیم کی نسل سے اور کرسی پر کوئی نہ بیٹے گا۔یرمیاہ باب اور یج بو ایم کی اولاد ہیں ہیں۔ہاہا۔تیسری بشارت جبکہ اسرائیل بچا تھا۔اُس کو میں پیار کرتا تھا۔اور اپنے بیٹے کو میں نے مصر سے بلایا۔ہوشیح - باب ! متی کہتا ہے۔ہیرو نے مسیح کو مار ڈالنا چاہا۔تو فرشتے نے یوسف سے کہا کہ سیج کو مصر لیجا۔جب ہیر ، مر گیا۔تو مسیح مصر سے واپس آگئے۔پس یہ بشارت سیح کی ہوئی سنو سنو سنو خروج ۳ باب ۲۲ سے معلوم ہوتا ہے کہ مصر میں یہودی لوگ جب پست حالت میں تھے۔تو ان کو