فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 163 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 163

١٣ وَمَا يَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللہ کی تشریح خود قرآن نے فرما دی ہے کہ مشرک کہیں کو پوجتے تھے۔سنو۔إن يَدْعُونَ مِنْ دُونِةٍ إِلا شَيْطَانًا مَّرِيدًا- نہیں پکارتے اُسکے سوانگر شیطان سرکش کو یعنی اصل اور حقیقت میں یہ مشرک لوگ شیطان کی پوجا کرتے ہیں۔جسکے اغوا اور فرمان کے مطابق ماسوی اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔دیکھو۔" قرنتینون کو خط ا باب ۲۰- خیر قومیں قربانی شیطان کے لئے کرتی ہیں نہ خدا کے لئے۔اور میں نہیں چاہتا کہ تم شیاطین کے شریک ہو جاؤ۔تم خداوند کا پیالہ اور شیاطین کا پیالہ پی نہیں سکتے۔معترض صاحب خوب سمجھ رکھیئے کہ جولوگ مسیح اور دیگر انبیاء اولیاء کی پرستش کرتے ہیں۔وہ حقیقت میں شیطان لعین کی پرستش کرتے ہیں اور بخلاف مرضی اور فرمان انبیائے کرام کے شیاطین کو اپنا معبود ٹھہرا رکھا ہو اور چونکہ شیاطین کی پرستش کرتے اور اُن کے اغوا و اضلالی سے گمراہ ہوئے ہیں اور خدائے حقیقی کی عبادت چھوڑ کر مخلوق کی پرستش میں لگے ہوئے ہیں اور اس کے ساتھ اور وں کو شریک کرتے ہیں اسلئے اس شرک کے بدلے وہ مشترک مخلوق پرست مع اپنے مغوی شیاطین کے دوزخ میں جائیں گے۔قرآن اور اہل اسلام کب اس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ مسیح نے یا دیگر انبیاء اولیاء نے لوگوں کو خدا کے سوا اپنی عبادت کرنے کو کہا ہے بلکہ وہ سب کے سب خدائے تعالے کی توحید اور اسی کی عبادت کی وحظ دنیا میں کرتے رہے۔پس اگر کوئی عقل کا اندھا مشرک (عیسائی ہو یا ثبت پرست) اُن مقدسوں کی عبادت کرتا ہے۔تو یہ اسکی کم فہمی ہو۔حقیقت میں وہ شیطان کی پوجا کرتا ہے۔اس میں مسیح اور دیگر انبیاء اولیاء کا کوئی قصور اور کوئی شرکت نہیں ہو۔یاد رکھو مسیح کی پوجا مسیح کے فرمانے سے نہیں ہوتی بلکہ شیطان کے کہنے پر خود شیطان ہی کی ہوتی ہو۔حضرت مسیح علیہ السلام اس شرکت سے بالکل بری ہیں۔