فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 164 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 164

اس لئے اُن پر کوئی سزا نہیں ہو سکتی۔دیکھو قرآن کریم مسیح و کی بریت عیسائیوں کے اس شرک سے بیان فرماتا ہے۔وَإِذْ قَالَ اللهُ يُعِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ ءَ اَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوني واقي الطين مِنْ دُونِ اللَّهِ - قَالَ سُحْنَكَ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِي بِحَقِّ إِن كُنتُ قُلْتُهُ ود فَقَدْ عَلِمْتَه تَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِي وَلا أَعْلَمُ مَا نِي نَفْسِكَ إِنَّكَ أَنتَ عَلامُ الْغَير عاقلتُ لَهُمُ الأَما أمرتني به آن اعبُدُ اللهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ وَكُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا ما دُمْتُ فِيهِمُ فَلَمَّا تَوَفَيْتَنِي كُنتَ اَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَأَنتَ عَلَى كُلِّ شَيءٍ شهید - سیپارہ ۷۔سورۂ مائده - رکوع ۱۶ - پادری صاحب سن لیا آپنے۔قرآن تو اس طرح حضرت مسیح کو اس شرک وکفر سے بری کرتا ہے پس وہ اعتراض آپکا قرآن پر کس قدر بے معنی ہو۔اب آؤ خدائے واحد خالق مسیح اورت مسیح کی عبادت مقدس اہل اسلام کے ساتھ مل کر کرو۔اور شرک مخلوق پرستی سے کنارہ کش ہو جاؤ۔تاکہ ابدی سزا سے بچو۔اعتراض - سوره مؤمن ۳ رکوع ۲۶ - آیت - فرعون نے بنی اسرائیل کے لڑاکوں کو اسلئے مار ڈالا کہ وہ موسی پر ایمان لائے۔یہ غلط ہے۔بلکہ فرعون نے موسیٰ سے پہلے یہودی لڑکے اسلئے مارے کہ وہ بڑھ نہ جاویں۔خروج ا باب۔ہے اور جب کہیگا اللہ سے عیسی مریم کے بیٹے کیا تونے لوگوں کو کہا کہ مجھکو اور میری ماں کو اللہ کے سوا دو معبود ٹھہرا لو۔وہ بولا تو پاک ہے مجھکو سزاوار نہیں ہے کہ کہوں وہ بات جو مجھے پہنچتی نہیں۔اگر میں نے یہ کیا ہو گا تو تجھے معلوم ہوگا۔جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور یکں نہیں جانتا ہو تیرے جی میں ہے بیشک تو ہی تھی بائیں جانے والا ہے۔میں نے تو انہیں وہی کہا جس کا تونے مجھے علم کیا تھا یہ کہ عبادت کرو اللہ کی جو میرا اور تمہارا رب ہے اور یہیں اُن پر خبردار رہا جب تک میں اُن میں رہا۔پھر جب تو نے مجھے وفات دی تو تو اُن پر خبردار تھا۔اور تو ہر چیز پر خبردار ہے ؟"