فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 91
۹۱ صحت اور مرض سے ہے راحت بخش مقنن ہے۔یہ صحت یا مرض رُوحانی ہو یا جسمانی۔ہاں ایسے امور میں جو خاص ملک یا خاص آب و ہوا یا اور خاص اسباء مختص الزمان يا مختص المكان کے ساتھ تعلق رکھتے ہوں۔اسلام آزاد می بخش مذہب ہے۔۔- توحید کا وہ بیان کہ ہادی اپنی عبودیت کا اقرار ایمان کا لازمی جز وفرار ہے۔کوئی انکار کر سکتا ہے کہ کتب سابقہ کے ان الفاظ نے۔اسرائیل میرا پلو ٹھا ہو۔میرا اکلوتا بیٹا موسی ندا سا وغیرہ وغیرہ۔او سجدے کی عام رسم نے توحید الومیت میں نقصان نہیں پہنچایا۔ویدوں میں اگر صاف صاف حکم ہو تا کہ سورج اور چاند اور منصری آگ اور دیوں کو بجد اور عبادت نہ کرو۔تو یہ جھگڑا جواز یا عدم جواز بت پرستی کا آریہ ورت میں کیوں پڑتا۔اخلاق وہ کسی نبی پر کوئی اعتراض نہیں سب کا مانناس کا ادب اسلام میں ضرور ہوا۔قُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنَا، وَلَا تَسُبُوا الذِيْنَ يَدُعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ (سُورَةُ انعام پارہ ۷۔رکوع ۱۹) سے بڑھ کر کون حکم ہو۔جو اخلاق کا مصدر بن سکے تعجب آتا ہو الزامی طور پر بھی قرآن عیوب کا اشارہ نہیں کرتا۔آپ نے کوئی حکم ایسا نہیں فرمایا جس میں آج ہم کو کہنا پڑے کہ کاش اسلام میں یہ حکم نہ ہوتا۔کسی ایسی چیز سے منع نہیں فرمایا۔جس میں آج ہمیں یہ کہنے کی ضرورت ہو کہ کاش اسلامیوں کو منع نہ فرماتے۔تمام عمدہ اور سنہری چیزوں کی اجاز ہے۔گل بری اور تبعیت اشیاء سے ممانعت ہے۔نہایت پسندیدہ صفات میں عدل تھا۔اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ - فرما کر تاکید کی۔اور ظلم سے لا لعنة الله على الظلمین - کہکر سخت ممانعت کی اشرک بڑا ظلم لَعْنَةُ الظَّالِمِينَ کی سے کہو لوگوں کو اچھا سا سے اور تم لوگ بُرا نہ کہو ان لوگوں کو جنکو پکارتے ہیں اللہ کے سوا۔۱۲ ل تحقیق اللہ حکم دینا ہے عدل کا ا سے آگاہ ہو لعنت اللہ کی ظالموں پر ہے ؟ ۱۲