فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 92
۹۲ اور عدل کی ضد ہے) صدق میں۔ايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصادقین کہا۔اور کذب کے حق میں لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِ بِبَيْنَ فرمایا منشاء صفات کا ملہ علم ہے اُس کیلئے قل رَّبِّ زِدْنِي عِلما آیا۔منشاء شرور قبل ہے۔اُسے إِلَى أَعِظُكَ اَنْ تَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ کہکر ہٹایا۔احسان کی ترغیب إن رَحْمَةُ اللهِ قَرِيب من المحسنین سے ظاہر ہے۔اور مدمقابل کی برائی۔وَإِذَا تَوَلَّى سَعَى فِي الْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ سے عیان - معاد اور قیامت کا اعتقاد جو ہر خوبی اور سیکی اور دلی محبت و سلوک کا سر چشمہ اور تمام خوشیوں اور امیدوں کی غایت ہے ایسے دلائل قویہ قانون قدرت سے مستحکم کئے ہیں کہ اس سے زیادہ ممکن نہیں۔ہاں علوم میں جادو ٹونے۔نجوم کا عملی حصہ وغیرہ مرویات سے واتبعوا ما تتلوا الشيطين عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ - فرما کر منع کیا۔تمام امت کو کس امر کی تاکید کی۔امت کو کیا کام سپرد کیا۔كسها خيرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُتَكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِالله - سوره آل عمران - پاره ۳ - رکوع ۴ - ہ اے مومنو ڈر و اللہ سے اور ہو تم ساتھ سچوں کے ۱۲ سے لعنت اللہ کی او پر جھوٹوں کے ۱۲ سے کہہ تو اسے ربت زیادہ کہ مجھکو علم سے میں نصیحت کرتا ہوں تجھکو یہ کہ نہ ہو جائے تو جاہلوں سے ی تحقیق رحمت اللہ کی تقریب سے نیکی کرنے والوں سے ۱۲ اور جب علیہ پھیر سے دوڑتا پھرے ملک میں کہ اُس میں ویرانی کرے اور ہلاک کرے کھیتیاں اور جائیں اور اللہ خوش نہیں رکھتا فساد کرنا ۱۲ کے اور پیچھے لگے ہیں اس علم کے جو پڑھتے تھے شیطان سلطنت میں سلیمان کی ۱۳ شد تم جو بہتر سب اُمتوں سے جو پیدا ہوئی ہیں لوگوں میں حکم کرتے ہو پسند بات پر اور منع کرتے ہونا پسندے اور ایمان لاتے ہو اللہ پر ۱۲ الامنة معلم الخیر بخاری اللہ