فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 74
ہوا۔علی ثبوت کمال ہے۔۷۴ دوم - دلیل انکار معجزات پر قرآن میں آیا ہے۔وَمَا مَنَعَنَا أن ترسل بالآيَاتِ إِلا أَن كَذَبَ بِها الاولُونَ میں پوچھتا ہوں الآیات عربی لفظ ہے۔دو کلموں سے بنا ہوا ایک آئی اور دوسرا آیا ہے جو آیت کی جمع ہے۔آئی کے معنے عربی میں کبھی خاص کے آتے ہیں اور کبھی کھل کے معنی دیتا ہو۔اگر لفظ آل کے خاص معنے لیئے جاویں تو آیت کا مطلب اور معنے یہ ہونگے۔ہمیں ان خاص نشانیوں کے بھیجنے سے (جنہیں منکر لوگ طلب کرتے ہیں) کوئی امر مانع نہیں ہوا۔مگر یہ کہ ان نشانیوں کو اگلوں نے جھٹلایا۔اس کے بعد کی آیت بھی ان معنوں کی تاکید کرتی ہے جس کا مطلب ہے نمود کی قوم نے ایک نشان مانگا پھر انہوں نے تکذیب کی۔اور اس نشان پر ظلم کیا۔اس قسم کے نشانات کی نفی صرف آنحضرت صلعم ہی کے وقت نہیں ہوئی۔بلکہ غور کرو۔مرقس ، با فریسیوں نے مسیح کے نشانات طلب کیے۔اس نے آہ کھینچ کے کہا۔اس زمانے کے لوگ کیوں نشان چاہتے ہیں۔میں تم سے سچ کہتا ہوں۔اس زمانے کے لوگوں کو کوئی نشان دیا نہ جاوے گا۔اور میں نشان دکھانے کا وعدہ ہوتا ہے۔کبھی اب تک ظلمت میں ہے۔اور لوقا ۲۳ باب ، میں ہے۔میرود لیس کو بڑی خواہش تھی۔کچھ سیحی معجزے دیکھے۔باوجود اصرار مسیح اسکے سامنے بولے بھی نہیں۔آخر اس نے ناچیز ٹھہرایا۔غور کیجئے ذرا انصاف سے سنیے۔انجیل میں لکھا ہے۔اگر کسی میں رائی برابر بھی ایمان ہوں تو پہاڑوں کو کہے یہاں سے وہاں چلے جاؤ تو وہ پہلے جاو بینگے۔بیماروں کو ہاتھ رکھ کر چنگا کرے گا۔وغیرہ وغیرہ۔مرقس ۱۶ با شلبت عیسائی انصاف سے کہیں تمام دنیا میں کوئی عیسائی مومن ہے۔یا سب کے سب کا فر ہیں۔اگر کوئی ہے تو اپنے ایان کو