فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 73 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 73

۷۳ کیلئے کیسے بولے جاتے۔مگر یاد رہے ان الفاظ کا نہ بولا جانا بھی ایک معجزہ اور خرق عادت بلکہ نشان نبوت ہے۔جسے آیت نبوت بھی کہتے ہیں۔کیونکہ یہ لفظ نہایت کمز و را در ناقص میں ان الفاظ کا استعمال ان نشانات نبوت پر جو واقعی نشان تھے۔عمدہ نہ تھا۔اس لئے ترک کیا۔د سبحان اللہ علمی ترقی میں جو الفاظ نکلے وہ ناقص اور قرآنی الفاظ کامل) کیونکہ خرق عادت کے معنی ہیں عادت کا خلاف۔اور پھر سب سلیم یہود و نصاری وغیرہ انبیاء اور رسولوں کیساتھ جب ہمیشہ ایسے امور کا ظہور ہوتا ہے۔تو یہ امور عادت میں داخل ہو گئے۔یہ عجائبات سنت اللہ میں شامل ہو گئے۔تبدیل منت اللہ یا خلاف عادة اللہ نہ ہوئے۔پیس ایسے عجیبہ امور بانشانات کو خرق عادت کہنا کیسا غلط ہوا۔اگر معجزے کے بھی یہی معنی ہیں تو سکا اطلاق بھی غلط ٹھہرا۔اور اگر حسب لغت اسکے معنی عاجز کر دینے والے کے لئے جاویں تو بھی یہ لفظ کمزور ہے۔دیکھو یہودان یروشلم اور پلائس سے بقول اناجیل اربعہ ایسا فعل سرزد ہوا جس نے مسیح اور انکے تلامنہ کو عاجز کردیا۔پس کیا یہود دشمنان مسیح اور پلاطس اصحاب علاوہ بریں توریت استثنا ۱۳ باب ۵۰۱ سے معلوم ہوتا ہو کہ صرف معجزه ثبت نبوت نہیں ہو سکتا۔بلکہ جھوٹے انبیا بھی معجزات دکھا سکتے ہیں۔مرقس 14 باب ۷ اسے معلوم ہوتا ہے۔ہر ایک مومن عیسائی معجزات دیکھا سکتا ہے۔پھر مجز، نشان نبوت کیسے ہوگا۔اسلئے معجزہ اور خرق عادت کا لفظ قرآن کیا حدیث صحیح اور اسلامی، علی طبقے کی کتابوں میں نہیں آیا۔بلکہ بجائے اس کے آیت اور علامت کا لفظ آیا ہے۔غور کرو اگر تعلیم یافتہ نوجوانوں کے کہنے پر مان لیں ترقی کے زمانے میں جو لفظ نکلا وہ ناقص ہے۔اور رسالت مآب کا لفظ پورا اور کامل ہے پادری صاحبان آنحضرت مسلم کی نسبت قرآن بلکہ صحیح حدیث اور صحابہ کے زه بان پر بھی صدور معجزہ یا خرق عادت کا لفظ نہیں آیا۔تو آپ یاد رکھیں کوئی نقص نہیں۔