فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 432
۴۳۲ رکھ سکتے ہیں ویسی علی العموم غریب لوگ نہیں رکھ سکتے۔ایسے صدر مقام کے لئے کون سا مکان تجویز ہوتا ہیں مکہ معظمہ سے کوئی مکان بہتر نہ تھا۔کیونکہ اول تو وہ مقام مبدء اسلام تھا۔دوم اس میں ایسے لوگوں کی یادگاری تھی جن کی سعی اور کوشش سے سخت سے سخت بت پرستی کا دنیا سے استیصال ہوا اور خالص الہی تو سید قائم ہوئی۔تمام مساعی جمیلہ اشاعت اسلام کے جن لوگوں سے سرزد ہوئے ان کا اس مولد وہی شہر تھا۔اگر کوئی چیز یاد گار جوش دلانے والی دنیا میں ہو سکتی ہے تو سکتے سے بہتر کوئی بھی نہیں۔الا امرا کے ساتھ جن پر حج فرض ہے۔ممکن بلکہ ضرور تھا کہ ان کے نوکر چاکر بھی حج کرنے کو ساتھ جا دیں۔اور کچھ لوگ غربا میں سے عشق کے مجبور کئے ہوئے بھی وہاں پہنچیں۔اس لئے اسلام نے لفرض کمال اتحاد اہل اسلام تجویز فرمایا کہ سب لوگ سادہ دو چادروں پر اکتفا کر کے امیرد غریب یکساں سر سے ننگے کرتے سے الگ سادہ وضع پر ظاہر ہوں تاکہ ان کی بینائی اور اتحاد کامل درجے پر پہنچے۔ا۔اس حالت کا نام احرام ہے۔کچھ علی محسن اس کا من چکے ہو کچھ اور سن لو۔زیر بے زینت کی پہلی سیڑھی حجامت بنوانا ، بال کٹوانا ہے۔اور اس کی ان ایام میں ممانعت ہے۔جو وضع کے پابندوں کو محال نظر آتی ہے اور کتب مقدسہ میں اس طرز کی نظیر موجود ہے۔زیر کے سر پیر استرانہ پھیرا جائے جب تک دے دن جن میں اُس نے اپنے آپ کو خدا وند کے لئے نذر کیا ہے گزر نہ جاویں۔سر کے بال بڑھنے دے گفتی 4 باب ۵ ا۔پھر اس مسجد میں میں کے وجود اور جس کی عظمت کا عنقریب ہم ثبوت دیں گے۔ابراہیمی عبادت کی طرح پر ایک عبادت ہے، جسے طوادت کہتے ہیں۔پر دانہ دار چند بار الی مسجد کے گرد گھومنا اس طوبت کا ثبوت اگر دیکھنا ہو زیور ۳۶ کو دیکھو۔۔پھر صفا اور مروہ کے درمیان بیادگار ام اسمعیل ہاجرہ علیہا السلام ملتا۔باجرہ کو جب ابراہیم نے یہاں چھوڑا تو انہوں نے ابراہیم سے پوچھا تو ہمیں کس کے سپرد کرتا ہے۔تو ابراہیم نے