فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 433 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 433

۳۳ فرمایا خدا کے سپرد اور اُسی کے حکم سے۔تب ہاجرہ نے کہا جاؤ۔وہ اللہ تعالی ہم کو ضائع نہ کرے گا آخر پیاس کی شدت میں پانی کی جستجو میں سب یہاں دوڑیں تو خدا نے زمزمہ سے انکی امداد کی۔اس قسم کی یادگاریں اولاد ابراہیم میں مروج تھیں۔دیکھو پیدائش ۳۵ باب ۱۵ بلکہ کشور نے بارہ پتھر جن کا ذکر شیوع ہم باب میں ہے دریا سے صرف یادگار کے لئے اٹھائے اور دریا کے باہر لا کر رکھے۔پولا ملانے کی رسم سیب کا ذکر اعتبار ۲۳ بات میں عیسائی مانتے ہیں مسیح کے بھی اُٹھنے کی یادگار ہے۔۴۔پھر عرفات کے میدان میں جانا ایک ضروری نفس حج کا ہے یہاں نہ کوئی پتھر نہ کوئی درخت صرت الہی یاد ہے۔اور اسی سے دعا۔دیکھو موسی ابھی فرعون کو کہتے ہیں۔خدا وند اسرائیل کا تارا یوں فرماتا ہے کہ میرے لوگوں کو جانے دے تاکہ دے بیابان میں میرے لئے عید کریں۔۵۔پھر ملتی ہے جس کی وجہ یہ ہے۔بہت دنوں سے سر کھلا رہا۔گردو غبار پڑا۔عام لوگوں کو سامان سرد ہونے کا اسی بہتر کیا ہے کہ سر منڈوا دیں یا بالوں کو کٹوائیں تخلیق کار دارج اور اس کا ثبوت مقدسہ کتب میں موجود ہے۔دیکھو ایوب-ا- باب ۲۰- نذیر جماعت کے خیمے کے دروازے پر سر کی منت منڈالو سے گنتی 4 باب ۸ بلکہ احبار ۱۴ باب ؟ میں تو چار ابر و کاصفایا مندرج ہے۔متی کہ باب ہم میں اس کا جواز اور ان رسوم کا اتباع دیکھ لو۔قربانی۔نذیر کے پاس اگر کوئی ناگہاں مر جاوے۔تو ایسی تمریاں یا کبوتر ایک خط کی قربانی اور ایک سوختنی قربانی گذرانے اور نذیر قربانی بے عیب یکسالہ برہ ایک خلا کی قربانی۔دوسرا سوختی قربانی کے لئے اور فطیری روٹی چپڑی ہوئی اور مہدی۔میدے کے کچھ تیل سے چھیڑے ہوئے کا اہن کو دے گفتی 4 - باب ۱۰- اور دیکھو پیدائش ، باب ۱۲۰ ۱۲ باب ۸ کثرت قربانی - ۲ تاریخ ، باب - اسلاطین و باب میں دیکھنے کے قابل ہے۔ہاں اتنی بات رہ گئی۔مقدسہ کتب میں اجتماع کے لئے ترکئی اور ناقوس کی ابدی رسم ہے۔اسلام نے اس کے بدلے کہیں اذاں کے لطیف کلمات اور حج میں۔