فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 431 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 431

محل انجمن ٹھہرا اور غالب عمرانات میں دھوپ کا خوف ہوا۔اس لئے ابتدائے روز عید کا وقت ٹھہرایا گیا۔عید میں روحانی محرک دورکعت کی نماز ہے اور بعد نماز کے ضروری نر دری باتوں پر کچھ ہے۔جسے خطبہ کہتے ہیں)۔تمام قوموں میں میلوں کا رواج ہے۔اور میلوں کا ہونا عمدہ مصالح دنیوی پر مبنی ہے۔مکمل مذاہب اور تمام اقوم کے میلے خالص توحید سے بالکل بے بہرہ ہیں۔کہیں غیر اللہ کی پرستش ہے۔کہیں صرف دنیوی خیال ہے جو فانی اور غیر باقی ہے۔اُن کو عظمت الہی سے کچھ سروکار نہیں۔اسلامی میلہ عید کا تمام دنیا کے میلوں سے اُدھانیت میں بڑھا ہوا ہے۔اب تمام اہل اسلام کے اجتماع کے لئے صدر مقام کی ضرورت تھی۔تاکہ مختلف براو کے بھائی اور اسلامی رشتے کے سلسلے میں یکتا باہم مل جادیں عمر ایسے اجتماع کے لئے اول تو کل اہل اسلام کا اکٹھا ہونا اور امیرو فقیر کا جانا محال تھا۔علاوہ بریں فقرا اور محتاجوں کے جانے میں کوئی بڑے فائدے مترتب ہو نیکی امید بھی نہیں ہو سکتی تھی۔اس لئے حکم ہوا۔والله عَلى النَّاسِ حجم البَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اليه سبيلاً سياره ۴ - رکوع ۱ اور یہ بھی ہے کہ امرا کے حق میں عیش اور کبری مہلک امراض اور ترقی کے دشمن ہیں دور و درانه کا سفر کرنا۔احباب اور اقارب کو چھوڑنا۔سردی اور گرمی کی برداشت کرنا مختلف بلاد کے علوم اور فتون اور اقسام مذاہب اور عادات پر واقف ہونا شستی اور نفس پر دری کا خوب استیصال نج کے اعمال کبر د برائی کے سخت دشمن ہیں۔زیب وزینت کو ترک کرنا غربا کے ساتھ ننگے سر کوسوں چلنا دنیا داروں مستوں ، عیاشوں کو کیسی کیسی بہت بڑھانے کا موجب ہے۔غرض حج کیا ہے اسلامیوں کو تجربہ کار اور ہوشیار بناتا ہے بے ریب ایک ملک کے فوائد کو دوسرے ملک تک پہنچانے میں میسی طاقت دولت مند