فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 33 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 33

۳۳ یں پوچھتا ہوں عیسائیوں کے سوا کل قومیں توسیح پر ایمان نہیں لائیں ان پر بلکہ انسانی قوم کو چھوڑو۔شیطان کی بتلاؤ۔اُس پر عدل ہوگا، یا ختم ہوگا۔یا دونوں شیطان پر اگر عدل ہیں ہوگا۔تو رحم کہاں گیا۔پھر جہان کیلئے تو یہ تجویز کی کہ ایک گناہ کی سزا ابدی ٹھہرائی۔اور اپنے لئے یا اپنے بیٹے کیلئے یہ خصوصیت گھڑ لی۔کہ تین دن سزا پاکر چھوٹ گئے۔عرض کفارے کا مسئلہ صاف ظاہر کرتا ہو کہ نہ تو خدا قدوس ہے اور نہ رحیم نہ عادل ہے۔یہ کفارہ تمام بد کاربوں اور بیساکیوں کی بڑ ہے۔اور توہمات کا سر چشمہ۔پر قربان جائیے اسلامی کفاروں کے کیسے عقل اور فطرت کے مطابق۔اور انکی صداقت پر قانون قدرت کی کیسی صاف شہادت ہے۔اسلامی کفارات کیا ہیں۔گناہوں کی سزائیں۔گنا ہوں پر جرمانے اور گناہ کے پیچھے نیکی کیا سچ ہو۔اِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيَاتِ - دنیکیاں دُور کر دیتی ہیں برائیوں کو قانون قدرت میں بھی دیکھو۔قانون قدرت کی خلاف ورزی سے جب سزائیں آتی ہیں۔تو اس خلاف ورزی کے بعد قانون کی متابعت اور خلاف ورزی کے نقصان پر کچھ خرچ ہی کرنا پڑتا ہے۔عیسائی عقاید کے موافق اقرار توحیب کے ساتھ اقرار تثلیث بھی نہایت ضروری ہے۔ایک ہی بیز ک من کل الوجوه واحد بوحدت حقیقیہ ماننا اور پھر اسے تین کہنا اور عقل کو میز کو۔یا عقل اور تمیز کو اسکا منجانب اللہ مکلف ٹھہرانا خدا کے رحم اور عدلی کو باطل کرنا ہے۔ایک طرف محفل کو تیز کو اس مسلے کے فہم سے قصر کیا اور پھر سے مکلف بنایا۔گویا خدا نے تکلیف مالا يطاق کا بوجہ اسکے سر پر رکھا۔اور یہ بات رحم اور عدل کے خلاف ہے ؟ یہودی اللہ تعالی کو جامع صفات کا ملہ یقین کرتے ہیں۔پر اسکی روحانی تربیت کے لیئے ایک ہی یونیورسٹی یہ وسلم جیسے آریہ ورت ہی کو آریہ لوگ یقین کرتے ہیں اور ایک ہی قوم کیلئے خدا کی فرزندی کو محدود کرتے ہیں۔اور کہتے ہیں انبیاء اور خدا کی طرف سے مندر ایک نہیں قوم بنی اسرائیل سے پیدا ہوئے۔گویا عموم رحمت الہیہ کے قابل نہیں۔قربان جائیے قرآن شریف یہودی مذہب سے مقابلہ