فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 34 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 34

۳۴ دو کے جو فرماتا ہے :- و أن من أُمَّةٍ الاخلا في ما نن ير - سوره فاطر سیپاره ۲۲ - رکوع ۱۵- فائدہ اسلامی عقاید میں یہ امر ضروری المتسلیم ہو کہ سب انبیاء و رسل پر ایمان لایا جائے جو قوموں کے نذیر گذرے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی اور رسول ہو کر آئے۔آریہ بھی اپنے اصول کے بیان میں ایسی اسلامی پہلی اصل میں اسلام کے ساتھ ہیں اور کہتے ہیں۔اصل اول بو پکہ ار تھے (اشیا) ست و دیار علم حقیقی سے جانے جاتے ہیں۔ان سبب آدمی مولی را بتدائی اصل ایشر (خدا) ہے۔اور انکی دوسری اصل میں موجود ہے۔الی سرب تكتيمان ديالو سرشتی کرتا ہے۔اور بے ریب یہ کا مر صفات ہیں اور اسکی ذات پاک کو نقائص سے منزہ بھی کہتے ہیں۔انتماء لم يلد ولم يولد ) آب (حی) امر (قیوم) اور پیم لیس کنشلہ اور اسے پانسا نوگ (معبود) بھی بتاتے ہیں۔پر ساتھ اس کے وہ اعتقاد کرتے ہیں۔ا۔تمام ارواح مع اپنے خواص کے بعد کی مخلوق نہیں۔اس کی بنائی ہوئی نہیں۔تمام ذرات عالم مع اپنے خواص عجیبہ کے خدا کے پیدا کئے ہوئے نہیں۔ہمیشہ کی نجات کا حصول ممن نہیں۔ابدی آرام انسانی مخلوق کو کبھی نہ ہوگا۔۴۔وید ہی ہاں صرف و ید ہی دنیا میں خدا کی طرف سے آریہ کیلئے خدا نے الہام فرمایا۔میں کہتا ہوں۔ذراتِ عالم جنہیں پر مانو کہتے ہیں۔اور ارواح اور ان کے خواص (و دیا) علم سے معلوم ہوئے۔حسب اصل اور اعتقاد اول چاہیئے تھا۔ان کا خالق اور آدمی مول الیشر ہوتا۔پر آریہ کہتے ہیں ذرات عالم اور ارواح خدا کی مخلوقیت سے علیحدہ ہیں۔وہ تو خود بخود ہمیشہ سے ہیں۔بلکہ اگر وہ نہ ہوتے تو خدا اپنی کوئی صفت کا ملہ نہ دکھا سکتا۔اتفاقات سے ہے اور کوئی فرقہ نہیں میں میں نہیں ہو چکا کوئی ڈرانے والا ہے خدا قادر مطلق رحیم خالق " پر مانوں اجزائے لا نتیجزی یا۔مر