فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 300 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 300

ایک روز قبیلہ بنی صعصعہ کے ایک شخص بحیرہ بن فراس نام نے آپکو دیکھا اور فرایزدی اور جلال کبریائی سے جو آپ کے بشرہ مبارک سے عیان تھا متا ثر ہو کر کہہ اٹھا۔الله لو اني اخذت هذا الفتى من قريش لا كلت العرب پھر آنحضرت سے مخاطب ہو کر گذارش کی ار رأيت ان نحن تابعناك على امرك ثم أظهرك الله على من خالفك ايكون لنا الأمر من بعدك - آنحضرت نے اس کے جواب میں فرمایا۔الأمر إلى الله يضعه حيث يشكو۔(ابن هشام ملدا مشكلام اس بات کو سنگرہ وہ شخص کہنے لگا۔افت هدن نحور تا للعرب دونك فاذا اظهرك الله كان الامر لغيرنا لا حاجة لنا بامرك۔اس ذکر کے ایراد سے ہماری صرف یہ عرض ہو کہ آنحضرت کے مشن کی صداقت اور آپکا صرف اعلائے کلمہ اللہ کو مد نظر رکھنا دنیا پر آشکار ہو۔اور اس نور نبوت سے چشم پوشی کرنے والے سوچیں کہ کیسی مصیبت اور کسقدر نازک وقت تھا جبکہ امداد کی سخت ضرورت تھی۔عالم تنہائی اور امر رسالت بینک رفقاء ومعاونین کے وجود کا خواستگار تھا سے بخدا اگر یہ قریش کا جوان میرے بس میں ہوتا تو اس کے ذریعے سے سارے عرب کو قابو میں کر نیتا ۱۲۔سے بھلا یہ تو بتائیے اگر ہم نے آپکا امربان بھی لیا اور خدا نے آپکو مخالفوں پر غالب بھی کر دیا اذ آپ کے پیچھے زما ہم حکومت ہمارے ہاتھ میں ہو گی ؟ ۱۲۔سل سب امور اللہ کے دستِ قدرت میں ہیں جہاں حکمت سمجھتا ہے وہیں دیتا ہے ۱۲۔سے کیا ہم آپکی خاطر عرب کے مقابل میں اپنے سینوں کونشانہ بنا دیں اور پھر جب آپ کا میاب ہوں تو امر دوسروں کے سپرد ہو۔ہمیں آپ کے امر کی کچھ حاجت نہیں ۱۲۔